Tuesday, 1 August 2017

قیامت کے دن سفارش

وَٱتَّقُواْ يَوۡمًا لَّا تَجۡزِى نَفۡسٌ عَن نَّفۡسٍ شَيْئًا وَلَا يُقۡبَلُ مِنۡہَا شَفَـٰعَةٌ وَلَا يُؤۡخَذُ مِنۡہَا عَدۡلٌ وَلَا هُمۡ يُنصَرُونَ اور اس دن سے ڈرو جب کوئی کسی کے کچھ کام نہ آئے اور نہ کسی کی سفارش منظور کی جائے اور نہ کسی سے کسی طرح کا بدلہ قبول کیا جائے اور نہ لوگ مدد حاصل کر سکیں. سورہ البقرہ آیت 48

کیا لونڈی کے ساتھ مباشرت جائز ہے

وَلَا تُكۡرِهُواْ فَتَيَـٰتِكُمۡ عَلَى ٱلۡبِغَآءِ إِنۡ أَرَدۡنَ تَحَصُّنًا لِّتَبۡتَغُواْ عَرَضَ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا ۚ وَمَن يُكۡرِههُّنَّ فَإِنَّ ٱللَّهَ مِنۢ بَعۡدِ إِكۡرَٲهِهِنَّ غَفُورٌ رَّحِيمٌ اور اپنی لونڈیوں کو اگر وہ پاک دامن رہنا چاہیں تو (بےشرمی سے) دنیاوی زندگی کے فوائد حاصل کرنے کے لئے بدکاری پر مجبور نہ کرنا۔ اور جو ان کو مجبور کرے گا تو ان (بیچاریوں) کے مجبور کئے جانے کے بعد خدا بخشنے والا مہربان ہے. سورہ النور آیت 33 (نوٹ:اس آیت میں یہ بات واضح ہے کہ بغیر نکاح کے لونڈی کے ساتھ مباشرت زنا ہے.) وَإِنۡ خِفۡتُمۡ أَلَّا تُقۡسِطُواْ فِى ٱلۡيَتَـٰمَىٰ فَٱنكِحُواْ مَا طَابَ لَكُم مِّنَ ٱلنِّسَآءِ مَثۡنَىٰ وَثُلَـٰثَ وَرُبَـٰعَ‌ ۖ فَإِنۡ خِفۡتُمۡ أَلَّا تَعۡدِلُواْ فَوَٲحِدَةً أَوۡ مَا مَلَكَتۡ أَيۡمَـٰنُكُمۡ ۚ ذَٲلِكَ أَدۡنَىٰٓ أَلَّا تَعُولُواْ اور اگر تم کو اس بات کا خوف ہو کہ یتیم لڑکیوں کے بارےانصاف نہ کرسکوگے تو ان کے سوا جو عورتیں تم کو پسند ہوں دو دو یا تین تین یا چار چار ان سے نکاح کرلو۔ اور اگر اس بات کا اندیشہ ہو کہ (ان میں ) یکساں سلوک نہ کرسکو گے تو ایک عورت یا لونڈی(کافی ہے) جس کے تم مالک ہو۔ اس سے تم بےانصافی سے بچ جاؤ گے. سورہ النساء آیت3 (نوٹ:کچھ لوگ اس آیت سے یہ مطلب نکالتے ہیں کہ جو لونڈی تمھارے قبضے میں ہو اسکے ساتھ نکاح کی ضرورت نہیں.سورہ النور کی آیت 33 میں اللہ پاک نے واضح کر دیا کہ نکاح کے بغیر کسی قسم کی عورت حلال نہیں ) ۞ وَٱلۡمُحۡصَنَـٰتُ مِنَ ٱلنِّسَآءِ إِلَّا مَا مَلَكَتۡ أَيۡمَـٰنُڪُمۡ‌ ۖ كِتَـٰبَ ٱللَّهِ عَلَيۡكُمۡ ۚ وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَآءَ ذَٲلِڪُمۡ أَن تَبۡتَغُواْ بِأَمۡوَٲلِكُم مُّحۡصِنِينَ غَيۡرَ مُسَـٰفِحِينَ ۚ فَمَا ٱسۡتَمۡتَعۡتُم بِهِۦ مِنۡہُنَّ فَـَٔاتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً ۚ وَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ فِيمَا تَرَٲضَيۡتُم بِهِۦ مِنۢ بَعۡدِ ٱلۡفَرِيضَةِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا اور شوہر والی عورتیں بھی (تم پر حرام ہیں)مگر وہ جو تمہارے قبضے میں آجائیں اللہ نے تم کو لکھ دیا ہے(کہ وہ بھی حرام ہیں) اور ان کے سوا اور عورتیں تم کو حلال ہیں اس طرح سے کہ مال خرچ کر کے ان سے نکاح کرلو بشرطیکہ (نکاح سے) مقصود عفت قائم رکھنا ہو نہ شہوت رانی تو جن عورتوں سے تم فائدہ حاصل کرو ان کا مہر جو مقرر کیا ہو ادا کردو اور اگر مقرر کرنے کے بعد آپس کی رضامندی سے مہر میں کمی بیشی کرلو تو تم پر کچھ گناہ نہیں بےشک خدا سب کچھ جاننے والا (اور) حکمت والا ہے وَمَن لَّمۡ يَسۡتَطِعۡ مِنكُمۡ طَوۡلاً أَن يَنڪِحَ ٱلۡمُحۡصَنَـٰتِ ٱلۡمُؤۡمِنَـٰتِ فَمِن مَّا مَلَكَتۡ أَيۡمَـٰنُكُم مِّن فَتَيَـٰتِكُمُ ٱلۡمُؤۡمِنَـٰتِ ۚ وَٱللَّهُ أَعۡلَمُ بِإِيمَـٰنِكُم ۚ بَعۡضُكُم مِّنۢ بَعۡضٍ ۚ فَٱنكِحُوهُنَّ بِإِذۡنِ أَهۡلِهِنَّ وَءَاتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ بِٱلۡمَعۡرُوفِ مُحۡصَنَـٰتٍ غَيۡرَ مُسَـٰفِحَـٰتٍ وَلَا مُتَّخِذَٲتِ أَخۡدَانٍ ۚ فَإِذَآ أُحۡصِنَّ فَإِنۡ أَتَيۡنَ بِفَـٰحِشَةٍ فَعَلَيۡہِنَّ نِصۡفُ مَا عَلَى ٱلۡمُحۡصَنَـٰتِ مِنَ ٱلۡعَذَابِ ۚ ذَٲلِكَ لِمَنۡ خَشِىَ ٱلۡعَنَتَ مِنكُمۡ ۚ وَأَن تَصۡبِرُواْ خَيۡرٌ لَّكُمۡ ۗ وَٱللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ اور جو شخص تم میں سے مومن آزاد عورتوں سے نکاح کرنے کی قدرت نہ رکھے تو مومن لونڈیوں میں ہی جو تمہارے قبضے میں آگئی ہوں (نکاح کرلے) اور اللہ تمہارے ایمان کو اچھی طرح جانتا ہے تم آپس میں ایک دوسرے کے ہم جنس ہو تو ان لونڈیوں کے ساتھ ان کے مالکوں سے اجازت حاصل کرکے نکاح کر لو اور دستور کے مطابق ان کا مہر بھی ادا کردو بشرطیکہ عفیفہ ہوں نہ ایسی کہ کھلم کھلا بدکاری کریں اور نہ درپردہ دوستی کرنا چاہیں پھر اگر نکاح میں آکر بدکاری کا ارتکاب کر بیٹھیں تو جو سزا آزاد عورتوں کے لئے ہے اس کی آدھی ان کو (دی جائے) یہ (لونڈی کے ساتھ نکاح کرنے کی) اجازت اس شخص کو ہے جسے گناہ کر بیٹھنے کا اندیشہ ہو اور اگر صبر کرو تو یہ تمہارے لئے بہت اچھا ہے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے. سورہ النساء آیات 24 اور 25

انبیاء علیھم اسلام کو اللہ رب العزت کا حکم

۞ يَـٰٓأَيُّہَا ٱلرَّسُولُ بَلِّغۡ مَآ أُنزِلَ إِلَيۡكَ مِن رَّبِّكَ‌   ۖ   وَإِن لَّمۡ تَفۡعَلۡ فَمَا بَلَّغۡتَ رِسَالَتَهُ ۥ  ۚ  وَٱللَّهُ يَعۡصِمُكَ مِنَ ٱلنَّاسِ   ۗ   إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَہۡدِى ٱلۡقَوۡمَ ٱلۡكَـٰفِرِينَ
اے پیغمبر جو ارشادات اللہ کی طرف سے تم پر نازل ہوئے ہیں سب لوگوں کو پہنچا دو اور اگر ایسا نہ کیا تو تم اللہ کے پیغام پہنچانے میں قاصر رہے (یعنی پیغمبری کا فرض ادا نہ کیا) اور اللہ تم کو لوگوں سے بچائے رکھے گا بیشک اللہ منکروں کو ہدایت نہیں دیتا. سورہ المائدہ آیت 67

وَإِذَا تُتۡلَىٰ عَلَيۡهِمۡ ءَايَاتُنَا بَيِّنَـٰتٍ‌   ۙ قَالَ ٱلَّذِينَ لَا يَرۡجُونَ لِقَآءَنَا ٱئۡتِ بِقُرۡءَانٍ غَيۡرِ هَـٰذَآ أَوۡ بَدِّلۡهُ  ۚ  قُلۡ مَا يَكُونُ لِىٓ أَنۡ أُبَدِّلَهُ  ۥ مِن تِلۡقَآىِٕ نَفۡسِىٓ‌   ۖ   إِنۡ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰٓ إِلَىَّ‌   ۖ   إِنِّىٓ أَخَافُ إِنۡ عَصَيۡتُ رَبِّى عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيمٍ
اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی امید نہیں وہ کہتے ہیں کہ (یا تو) اس کے سوا کوئی اور قرآن (بنا) لاؤ یا اس کو بدل دو۔ کہہ دو کہ مجھ کو اختیار نہیں ہے کہ اسے اپنی طرف سے بدل دو۔ میں تو اسی حکم کا تابع ہوں جو میری طرف آتا ہے۔ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے (سخت) دن کے عذاب سے خوف آتا ہے. سورہ یونس آیت 15

كَانَ ٱلنَّاسُ أُمَّةً وَٲحِدَةً فَبَعَثَ ٱللَّهُ ٱلنَّبِيِّـۧنَ مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ وَأَنزَلَ مَعَهُمُ ٱلۡكِتَـٰبَ بِٱلۡحَقِّ لِيَحۡكُمَ بَيۡنَ ٱلنَّاسِ فِيمَا ٱخۡتَلَفُواْ فِيهِ  ۚ  وَمَا ٱخۡتَلَفَ فِيهِ إِلَّا ٱلَّذِينَ أُوتُوهُ مِنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡهُمُ ٱلۡبَيِّنَـٰتُ بَغۡيَۢا بَيۡنَهُمۡ‌   ۖ   فَهَدَى ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لِمَا ٱخۡتَلَفُواْ فِيهِ مِنَ ٱلۡحَقِّ بِإِذۡنِهِۦ   ۗ   وَٱللَّهُ يَهۡدِى مَن يَشَآءُ إِلَىٰ صِرَٲطٍ مُّسۡتَقِيمٍ
(پہلے تو سب) لوگوں کا ایک ہی مذہب تھا (لیکن وہ آپس میں اختلاف کرنے لگے) تو خدا نے (ان کی طرف) بشارت دینے والے اور ڈر سنانے والے پیغمبر بھیجے اور ان پر سچائی کے ساتھ کتابیں نازل کیں تاکہ جن امور میں لوگ اختلاف کرتے تھے ان کا ان میں فیصلہ کردے۔ اور اس میں اختلاف بھی انہیں لوگوں نے کیا جن کو کتاب دی گئی تھی باوجود یہ کہ ان کے پاس کھلے ہوئے احکام آچکے تھے (اور یہ اختلاف انہوں نے صرف) آپس کی ضد سے (کیا) تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھا دی۔ اور خدا جس کو چاہتا ہے سیدھا رستہ دکھا دیتا ہے. سورہ البقرہ 213

نماز کے احکام

فَإِنۡ خِفۡتُمۡ فَرِجَالاً أَوۡ رُكۡبَانًا‌ ۖ فَإِذَآ أَمِنتُمۡ فَٱذۡڪُرُواْ ٱللَّهَ كَمَا عَلَّمَڪُم مَّا لَمۡ تَكُونُواْ تَعۡلَمُونَ اگر تم خوف کی حالت میں ہو تو پیادے یا سوار (جس حال میں ہو نماز پڑھ لو) پھر جب امن (واطمینان) ہوجائے تو جس طریق سے خدا نے تم کو سکھایا ہے جو تم پہلے نہیں جانتے تھے خدا کو یاد کرو.سورہ البقرہ آیت 239

وہ کون لوگ ہیں جنہیں اللہ نے کافر کہا ہے

إِنَّآ أَنزَلۡنَا ٱلتَّوۡرَٮٰةَ فِيہَا هُدًى وَنُورٌ ۚ يَحۡكُمُ بِہَا ٱلنَّبِيُّونَ ٱلَّذِينَ أَسۡلَمُواْ لِلَّذِينَ هَادُواْ وَٱلرَّبَّـٰنِيُّونَ وَٱلۡأَحۡبَارُ بِمَا ٱسۡتُحۡفِظُواْ مِن كِتَـٰبِ ٱللَّهِ وَڪَانُواْ عَلَيۡهِ شُہَدَآءَ ۚ فَلَا تَخۡشَوُاْ ٱلنَّاسَ وَٱخۡشَوۡنِ وَلَا تَشۡتَرُواْ بِـَٔايَـٰتِى ثَمَنًا قَلِيلاً ۚ وَمَن لَّمۡ يَحۡكُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ فَأُوْلَـٰٓٮِٕكَ هُمُ ٱلۡكَـٰفِرُون بیشک ہم نے توریت نازل فرمائی جس میں ہدایت اور روشنی ہے اسی کے مطابق انبیاء جو (اللہ کے) فرمانبردار تھے یہودیوں کو حکم دیتے رہے ہیں اور مشائخ اور علماء بھی کیونکہ وہ اللہ کی کتاب کے نگہبان مقرر کیے گئے تھے اور اس پر گواہ تھےتو تم لوگوں سے مت ڈرنا اور مجھی سے ڈرتے رہنا اور میری آیتوں کے بدلے تھوڑی سی قیمت نہ لینا اور جو خدا کے نازل فرمائے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے تو ایسے ہی لوگ کافر ہیں. سورہ المائدہ 44

اسلام میں پردے کی حقیقت

قُل لِّلۡمُؤۡمِنِينَ يَغُضُّواْ مِنۡ أَبۡصَـٰرِهِمۡ وَيَحۡفَظُواْ فُرُوجَهُمۡ ۚ ذَٲلِكَ أَزۡكَىٰ لَهُمۡ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ خَبِيرُۢ بِمَا يَصۡنَعُونَ مومن مردوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں۔ یہ ان کے لئے بڑی پاکیزگی کی بات ہے اور جو کام یہ کرتے ہیں خدا ان سے خبردار ہے وَقُل لِّلۡمُؤۡمِنَـٰتِ يَغۡضُضۡنَ مِنۡ أَبۡصَـٰرِهِنَّ وَيَحۡفَظۡنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبۡدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنۡهَا‌ ۖ وَلۡيَضۡرِبۡنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِہِنَّ‌ ۖ وَلَا يُبۡدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوۡ ءَابَآٮِٕهِنَّ أَوۡ ءَابَآءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوۡ أَبۡنَآٮِٕهِنَّ أَوۡ أَبۡنَآءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوۡ إِخۡوَٲنِهِنَّ أَوۡ بَنِىٓ إِخۡوَٲنِهِنَّ أَوۡ بَنِىٓ أَخَوَٲتِهِنَّ أَوۡ نِسَآٮِٕهِنَّ أَوۡ مَا مَلَكَتۡ أَيۡمَـٰنُهُنَّ أَوِ ٱلتَّـٰبِعِينَ غَيۡرِ أُوْلِى ٱلۡإِرۡبَةِ مِنَ ٱلرِّجَالِ أَوِ ٱلطِّفۡلِ ٱلَّذِينَ لَمۡ يَظۡهَرُواْ عَلَىٰ عَوۡرَٲتِ ٱلنِّسَآءِ‌ ۖ وَلَا يَضۡرِبۡنَ بِأَرۡجُلِهِنَّ لِيُعۡلَمَ مَا يُخۡفِينَ مِن زِينَتِهِنَّ ۚ وَتُوبُوٓاْ إِلَى ٱللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ اور مومن عورتوں سے بھی کہہ دو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی آرائش (یعنی زیور کے مقامات) کو ظاہر نہ ہونے دیا کریں مگر جو ان میں سے کھلا رہتا ہو۔ اور اپنے سینوں پر اوڑھنیاں اوڑھے رہا کریں اور اپنے خاوند اور باپ اور خسر اور بیٹیوں اور خاوند کے بیٹوں اور بھائیوں اور بھتیجیوں اور بھانجوں اور اپنی (ہی قسم کی) عورتوں اور لونڈی غلاموں کے سوا نیز ان خدام کے جو عورتوں کی خواہش نہ رکھیں یا ایسے لڑکوں کے جو عورتوں کے پردے کی چیزوں سے واقف نہ ہوں (غرض ان لوگوں کے سوا) کسی پر اپنی زینت (اور سنگار کے مقامات) کو ظاہر نہ ہونے دیں۔ اور اپنے پاؤں (ایسے طور سے زمین پر) نہ ماریں (کہ جھنکار کانوں میں پہنچے اور) ان کا پوشیدہ زیور معلوم ہوجائے۔ اور مومنو! سب خدا کے آگے توبہ کرو تاکہ فلاح پاؤ. سورہ النور 30 31

سورہ النور کے احکام فرض ہیں.

سُورَةٌ أَنزَلۡنَـٰهَا وَفَرَضۡنَـٰهَا وَأَنزَلۡنَا فِيہَآ ءَايَـٰتِۭ بَيِّنَـٰتٍ لَّعَلَّكُمۡ تَذَكَّرُونَ
یہ (ایک) سورت ہے جس کو ہم نے نازل کیا اور اس (کے احکام) کو فرض کر دیا، اور اس میں واضح المطالب آیتیں نازل کیں تاکہ تم یاد رکھو. آیت نمبر 1

پاک عورت پر بدکاری کا الزام لگانے کی سزا

وَٱلَّذِينَ يَرۡمُونَ ٱلۡمُحۡصَنَـٰتِ ثُمَّ لَمۡ يَأۡتُواْ بِأَرۡبَعَةِ شُہَدَآءَ فَٱجۡلِدُوهُمۡ ثَمَـٰنِينَ جَلۡدَةً وَلَا تَقۡبَلُواْ لَهُمۡ شَہَـٰدَةً أَبَدًا  ۚ  وَأُوْلَـٰٓٮِٕكَ هُمُ ٱلۡفَـٰسِقُونَ
اور جو لوگ پرہیزگار عورتوں کو بدکاری کا عیب لگائیں اور اس پر چار گواہ نہ لائیں تو ان کو اسی درے مارو اور کبھی ان کی شہادت قبول نہ کرو۔ اور یہی بدکردار ہیں.سورہ النور آیت 4

اسلام میں زنا کی سزا کیا ہے؟

ٱلزَّانِيَةُ وَٱلزَّانِى فَٱجۡلِدُواْ كُلَّ وَٲحِدٍ مِّنۡہُمَا مِاْئَةَ جَلۡدَةٍ‌   ۖ   وَلَا تَأۡخُذۡكُم بِہِمَا رَأۡفَةٌ فِى دِينِ ٱللَّهِ إِن كُنتُمۡ تُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأَخِرِ‌   ۖ   وَلۡيَشۡہَدۡ عَذَابَہُمَا طَآٮِٕفَةٌ مِّنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
بدکاری کرنے والی عورت اور بدکاری کرنے والا مرد دونوں میں سے ہر ایک کو سو درے مارو۔ اور اگر تم اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو شرع اللہ (کے حکم) میں تمہیں ان پر ہرگز ترس نہ آئے۔ اور چاہیئے کہ ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت بھی موجود ہو. سورہ النور آیت 2

اپنی طرف سے حلال اور حرام کے فتوے مت دیں

وَلَا تَقُولُواْ لِمَا تَصِفُ أَلۡسِنَتُڪُمُ ٱلۡكَذِبَ هَـٰذَا حَلَـٰلٌ وَهَـٰذَا حَرَامٌ لِّتَفۡتَرُواْ عَلَى ٱللَّهِ ٱلۡكَذِبَ ۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَفۡتَرُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلۡكَذِبَ لَا يُفۡلِحُون
َاور یوں ہی جھوٹ جو تمہاری زبان پر آجائے مت کہہ دیا کرو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اللہ پر جھوٹ بہتان باندھنے لگو۔ جو لوگ اللہ پر جھوٹ بہتان باندھتے ہیں ان کا بھلا نہیں ہوگا.سورہ النحل آیت 116

اللہ کی نظر میں تمام انسانیت برابر ہے

وَقَالَتِ ٱلۡيَهُودُ وَٱلنَّصَـٰرَىٰ نَحۡنُ أَبۡنَـٰٓؤُاْ ٱللَّهِ وَأَحِبَّـٰٓؤُهُ ۥ ۚ قُلۡ فَلِمَ يُعَذِّبُكُم بِذُنُوبِكُم‌ ۖ بَلۡ أَنتُم بَشَرٌ مِّمَّنۡ خَلَقَ ۚ يَغۡفِرُ لِمَن يَشَآءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَآءُ ۚ وَلِلَّهِ مُلۡكُ ٱلسَّمَـٰوَٲتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا‌ ۖ وَإِلَيۡهِ ٱلۡمَصِيرُ
اور یہود اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں کہو کہ پھر وہ تمہاری بداعمالیوں کے سبب تمھیں عذاب کیوں دیتا ہے (نہیں) بلکہ تم اس کی مخلوقات میں (دوسروں کی طرح کے) انسان ہو وہ جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے عذاب دے اور آسمان زمین اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب پر اللہ ہی کی حکومت ہے اور (سب کو) اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے.سورہ المائدہ آیت 18

ترجمہ

قرآن مجید عربی میں نازل ہوا ہے اور اپنے اثر و رسوخ کے ساتھ قائم دائم ہے اور قیامت تک رہے گا۔ ہم قرآن مجید کا ترجمہ تو کر سکتے ہیں مگر اس تر...