Tuesday, 8 October 2019

کیا غیر مسلم بھی جنت میں داخل ہو سکتے ہیں؟

سوال:کیا غیر مسلم بھی جنت میں داخل ہو سکتے ہیں؟
جواب:آئیےسب سے پہلے قرآن مجید کا مطالعہ کرتے ہیں
البقرہ آیت 62
(سو جزا و سزا کا قانون بالکل بے لاگ ہے، اِس لیے) وہ [160] لوگ جو (نبی امی پر) ایمان لائے ہیں اور جو (اِن سے پہلے) یہودی [161] ہوئے اور جو نصاریٰ [162] اور صابی [163] کہلاتے ہیں، اُن میں سے جن لوگوں نے بھی اللہ کو مانا ہے اور قیامت کے دن کو مانا ہے اور نیک عمل کیے ہیں، اُن کے لیے اُن کا صلہ اُن کے پروردگار کے پاس ہے اور (اُس کے حضور میں )اُن کے لیے نہ کوئی اندیشہ ہو گا اور نہ وہ کبھی غم زدہ ہوں [164] گے۔
المائدہ آیات 68،69
اِن [427] سے صاف کہہ دو: اے اہل کتاب، تمھاری کوئی بنیاد نہیں ہے، جب تک تم تورات و انجیل پر اور اُس چیز پر قائم نہ ہو جاؤ جو تمھارے پروردگار کی طرف سے تم پر اتاری گئی ہے، [428] لیکن ہو گا یہی کہ اِن میں سے بہتوں کی سرکشی اور اُن کے کفرکو وہ چیز ضروربڑھا دے گی جو تم پر تمھارے پروردگار کی طرف سے نازل ہوئی [429] ہے۔ اِس لیے اِن منکرلوگوں پر افسوس نہ کرو۔حقیقت یہ ہے کہ (خدا کی نجات پر کسی کا اجارہ نہیں ہے، لہٰذا) جو مسلمان ہیں اور جو (اِن سے پہلے) یہودی ہوئے اور جو صابی اور نصاریٰ [430] کہلاتے ہیں، اِن میں سے جو لوگ بھی اللہ پر ایمان لائے ہیں اور قیامت کے دن پر ایمان لائے ہیں اور جنھوں نے نیک عمل کیے ہیں، اُن کے لیے نہ (خدا کے حضور میں) کوئی اندیشہ ہوگا اور نہ وہ کبھی غم زدہ ہوں [431] گے۔
یہود کو مخاطب ہوکر اللہ تعالیٰ نے یہی پیغام دیا تھا:
سورہ البقرہ آیات80،81
’’اوروہ کہتے ہیں کہ ان کو دوزخ کی آگ نہیں چھوئے گی مگر صرف گنتی کے چند دن۔پوچھو: کیا تم نے اللہ کے پاس اس کے لیے کوئی عہد کرالیا ہے کہ اللہ اپنے عہد کی خلاف ورزی نہیں کرے گایا تم اللہ پر ایک ایسی تہمت باندھ رہے ہو جس کے بارے میں تمھیں کچھ علم نہیں ۔ کیوں نہیں ، جس نے کوئی بدی کمائی اور اس کے گناہ نے اسے اپنے گھیرے میں لے لیا وہی لوگ دوزخ والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے ۔‘‘ (بقرہ2: 80۔81)
وضاحت :
ان آیات کے سیاق و سباق سے واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ یہاں بنی اسرائیل کے اس غلط نظریے کی تردید کر رہے ہیں کہ ہم محض یہودی ہونے کے باعث جنت کے مستحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ یہ واضح کر رہے ہیں کہ کسی مخصوص گروہسے تعلق ، خواہ وہ یہودی ، عیسائی یا مسلمان ہو، اس گروہ سے تعلق نجات کی ضمانت نہیں بنتا ، بلکہ ایمان و عمل ہی آخرت کی نجات کا باعث ہے ۔
یہودیوں کی طرح مسلمانوں میں بھی یہ بات عام ہو چکی ہے کہ وہ چند دن کے لیے جہنم میں جائیں گے اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ انھیں جہنم سے نکال لیں گے جبکہ قرآن کریم اس بات سے بالکل خالی ہے کہ اللہ تعالیٰ روز قیامت مسلمانوں کو ایسی کسی خصوصی رعایت سے نوازیں گے۔ قیامت کا دن عدل کا دن ہے۔ اس روز سارے فیصلے عدل کے مطابق ہوں گے۔

ترجمہ

قرآن مجید عربی میں نازل ہوا ہے اور اپنے اثر و رسوخ کے ساتھ قائم دائم ہے اور قیامت تک رہے گا۔ ہم قرآن مجید کا ترجمہ تو کر سکتے ہیں مگر اس تر...