Monday, 15 October 2018

عیسی علیہ اسلام کی وفات کے دلائل

دیباچہ
اس کتابچہ میں خالص محمد ﷺ کے ذریعہ سے نازل شدہ پیغامات، فرمودات، احسن الحدیث یا پھر آسان الفاظ میں القرآن المجید کی روشنی میں مسئلہ کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کی ہر محکم بات کو رب العزت کی عنایت اور میرے بے شمار جلیل القدر اساتذۂ کرام کے علم و فکر سے اخذ و استفادہ کا نتیجہ سمجھیے۔ میں نے ان پیغامات کو جو کچھ سمجھا ہے وہ اپنے اس کتابچہ میں شامل کر دیا ہے۔اس میں کوئی بات کمزور نظر آئے تو اسے میری کوتاہی علم پر محمول کیجئیے، اور اس سے بہتر اگر کوئی مسئلہ کا حل سامنے آئے تو اسے قبول کر لینا چاہیئے۔







ہم حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات کے جواب دینے کی کوشش کریں گے۔
سوال ١:
حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں یا وفات پاچکے ہیں، اگر وہ وفات پاچکے ہیں تو ہم کس کا انتظار کر رہے ہیں۔ اگر زندہ ہیں تو کب آسمان سے اتریں گے؟
جواب:
حضرت عیسی علیہ السلام کے دوبارہ آنے یا نہ آنے کا معاملہ ان کی زندگی سے مشروط نہیں ہے۔ جو قادر مطلق انھیں ایک بار زندگی دے سکتا ہے وہ انھیں دوبارہ بھی زندگی دے سکتا ہے۔ جس نے انھیں بغیر باپ کے پیدا کیا تھا کیا یہ اس کے لیے ممکن نہیں کہ وہ انھیں دوبارہ زندگی دے کر زمین پر بھیج دے۔ اس لیے ان کے آنے کو اس حقیقت سے مجرد ہو کر دیکھنا چاہیے کہ آپ زندہ ہیں یا نہیں۔وہ زندگی تو انھیں بہرحال حاصل ہے جو شہدا کی زندگی ہے۔
پہلی بات تو یہ واضح ہے کہ قرآن مجید میں صریح الفاظ تو کیا ضمنی پہلو سے بھی کہیں حضرت عیسی علیہ السلام کے دوبارہ آنے کا ذکر نہیں ہے۔ اس کے برعکس دو مقامات ایسے ہیں جہاں ان کے دوبارہ آنے کا ذکر ہونا چاہیے لیکن حیرت کی بات ہے کہ وہاں بھی اس بات کا ذکر نہیں ہے۔
سورۂ مائدہ میں حضرت عیسی علیہ السلام کا ایک مکالمہ منقول ہے جو ان کے اور اللہ تعالی کے بیچ قیامت کے دن ہوگا۔ اس میں ان سے سوال کیا گیا ہے کہ کیا انھوں نے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو خدا کے سوا معبود بناؤ۔ اس کے جواب میں حضرت عیسی علیہ السلام نے کہا: سبحانک، میرے لیے کس طرح موزوں ہے کہ میں وہ بات کہوں جو ناحق ہے۔ آپ تو میرے دل کی بات سے واقف ہیں۔ میں اس سے واقف نہیں جو آپ کے جی میں ہے۔ اگر میں نے ایسا کہا ہوتا تو آپ کے علم میں ہوتا۔ میں نے تو ان سے وہی بات کہی تھی جس کا حکم مجھے آپ نے دیا تھا۔ جب تک میں ان کے بیچ میں تھا تو ان پر گواہ تھا۔ پھر جب آپ نے مجھے وفات دے دی تو آپ ہی ان پر نگران تھے۔ اور آپ ہر چیز پر گواہ ہیں۔ (116۔117)
اس مکالمے میں اس بات کا پورا موقع تھا کہ حضرت عیسی علیہ السلام اپنے دوبارہ آنے اور اس باطل عقیدے کی بھر پور تردید کرنے کا ذکر کرتے۔ مزید برآں اس مکالمے میں یہ بات مضمر ہے کہ حضرت عیسی اس باطل عقیدے کے پیدا ہونے سے واقف نہیں ہیں۔ اگر وہ اس دنیا میں آئے ہوتے تو ایسے جملے نہ بولتے جن سے ان کی عدم واقفیت جھلکتی ہو۔
دوسرا موقع وہ ہے جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسی علیہ السلام کو بتایا کہ اب ان کی وفات کا وقت آگیا ہے اور غلبہ اب ان کے ماننے والوں کو حاصل ہوگا اور ان کے ماننے والے قیامت تک یہود پر فائق رہیں گے۔ حوالے کے لیے دیکھیے سورۂ آل عمران کی آیت 55۔ جب پیشین گوئی کو قیامت تک کے حوالے سے بیان کیا گیا تھا تو یہاں یہ بات بیان نہ کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ تمھیں میں دوبارہ دنیا میں بھیجوں گا اور تم اس غلبے کا مشاہدہ بھی کرو گے اور ایک بار پھر ان پر حجت تمام کرو گے۔
سوال٢:
کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام واقعی بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے یا حضرت مریم کی شادی ہوئی تھی اور اس کے بعد عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے تھے؟ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا گیا تھا اور وہ قیامت سے پہلے دنیا میں دوبارہ واپس آئیں گے یا ان کی طبعی وفات ہوئی تھی؟
جواب:
عیسیٰ علیہ السلام یقینا بن باپ کے پیدا ہوئے تھے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں فرمایا گیا:
اِنَّ مَثَلَ عِيْسٰی عِنْدَاللّٰهِ کَمَثَلِ اٰدَمَ، خَلَقَه، مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَه، کُنْ فَيَکُوْنُ، اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِکَ فَلَا تَکُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِيْنَ.(آل عمران٣:٥٩-٦٠)
''بے شک عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک آدم کی سی ہے، اس کو مٹی سے بنایا ،پھر اس کو امر کیا کہ توہو جا تو وہ ہو گیا۔ یہی بات تمھارے رب کی طرف سے حق ہے تو تم شک کرنے والوں میں سے نہ بنو۔''
یہ آیت واضح طور پر یہ بتا رہی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی پیدایش کا معاملہ آدم علیہ السلام کی پیدایش کی مثل ہے اور آپ اسی طرح بغیر باپ کے مریم کے پیٹ میں حرف کن سے پیدا کیے گئے تھے، جیسے آدم علیہ السلام بغیر ماں باپ کے مٹی سے حرف کن کے ساتھ پیدا کیے گئے تھے۔ پھر اس کے بعد اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ نصیحت بھی کر دی ہے کہ یہی بات حق ہے ، لہٰذا، اے مخاطب، تم شک کرنے والوں میں نہ بنو۔
عیسیٰ علیہ السلام کے رفع کا قرآن مجید میں دو مقامات پر ذکر موجود ہے۔ ارشاد باری ہے:
وَمَا قَتَلُوْهُ يَقِيْنًا، بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ.(النساء٤:١٥٧-١٥٨)
''انھوں نے اس کو ہرگز قتل نہیں کیا، بلکہ اللہ نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا۔''
اور فرمایا:
اِذْ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيْسٰۤی اِنِّیْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَیَّ.(آل عمران٣:٥٥)
''جب اللہ نے کہا: اے عیسیٰ، میں نے فیصلہ کیا ہے کہ تجھے وفات دوں گا اور اپنی طرف اٹھا لوں گا۔ ''
ان دونوں آیات سے یہ پتا چلتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو یہود نے ہرگز قتل نہیں کیا تھا، جیسا کہ ان کا دعویٰ ہے، البتہ اللہ نے انھیں وفات دی تھی اور پھر اللہ نے ان کے بے جان جسم کو یہود کے ہاتھوں سے بچانے کے لیے اپنے پاس اٹھا لیا تھا۔ چنانچہ یہی بات صحیح ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام وفات پا چکے ہیں۔
اس سب کے باوجود اگر انھیں دنیا میں دوبارہ آنا ہے تو اس میں عقلاً کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ البتہ جن احادیث میں ان کے دنیا میں دوبارہ آنے کا ذکر ہے، خود قرآن مجید ہی کی بعض آیات ان سے متصادم ہیں، لہٰذا ان آیات کی روشنی ہی میں ان احادیث کو سمجھنا چاہیے۔
بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے دوبارہ آنے کا عقیدہ قرآن کے مطابق نہیں ہے۔

Friday, 5 October 2018

اِسم کی قسمیں

اِسم کی قسمیں: عربی قواعد کے لحاظ سے اِسم کی دو بڑی قسمیں ہیں:۱۔اِسمِ معرفہ۲۔ اِسمِ نکِرہ
۱۔اِسمِ معرفہ: اِسمِ معرفہ خاص چیزوں کے لیے بولا جاتا ہے
۲۔اِسمِ نکِرہ: اِسمِ نکرہ عام چیزوں کے لیے اِستعمال ہوتا ہے

اِسمِ معرفہ اور اِسمِ نکرہ کی خصوصیت:
اِسمِ نکرہ کی نشانی تنوین ہوتی ہے۔یعنی دوپیش( ٌ ) دو زبر( ً ) یا دو زیر ( ٍ )کوئی اِسمِ نکرہ اپنی اصلی حالت میں تنوین کے بغیر نہیں ہوتا۔​
اَلْ تعریف یا لَامِتعریف:اگر کسی اِسمِ نکرہ کے شروع میں اَلْ لگا دِیا جائے تو وہ اِسم معرفہ بن جاتا ہے۔اور اُس سے کوئی خاص شخص یا کوئی خاص چیز یا خاص جگہ ہی سمجھی جاتی ہے۔اِس صورت میں تنوین گر جاتی ہے اور اِسم کا اعراب صرف ایک پیش ( ُ )،ایک زبر( َ) یا ایک زیر( ِ ) رہ جاتا ہے۔جیسے:​
کِتَابٌ ۔۔۔(کوئی کتاب)۔۔۔اَلْکِتَابُ (خاص کتاب، مثلاً :قرآن مجید)​
مَدِیْنَۃٌ ۔۔۔(کوئی شہر)۔۔۔اَلْمَدِیْنَۃُ (خاص شہر، مثلاً :مدینہ منورہ)​
اَرْضٌ ۔۔۔(زمین کا حصہ)۔۔۔ اَلْاَرْضُ (کرّۂ زمین، یا زمین کا کوئی خاص علاقہ )​
ایسے اَلْ سے چونکہ اسمِ نکرہ میں معرفہ کے معنیٰ پیدا ہوتے ہیں اِس لیےاِسے قواعد میں اَلْ تعریف یا لَامِتعریف (معرفہ بنانے والا) کہتے ہیں۔جسے اَلْ لگا کر معرفہ بنایا گیا ہو ایسے اِسمِ معرفہ پر تنوین نہیں آتی۔البتہ بعض الفاظ اس قاعدے سے مستثنیٰ ہیں۔جیسے اَلرُّوْمُ، اَلشَّامُ،مُحَمَّدٌ، زَیْدٌ وغیرہ۔ یہ اہلِ زبان کے اِستعمال پر موقوف ہے۔اِس کے لیے کوئی ضابطہ نہیں ہے۔​

Wednesday, 3 October 2018

كيا حضرت عیسی علیہ السلام زندہ ہيں یا وفات پا چکے؟

حضرت عیسی علیہ السلام کے دوبارہ آنے یا نہ آنے کا معاملہ ان کی زندگی سے مشروط نہیں ہے۔ جو قادر مطلق انھیں ایک بار زندگی دے سکتا ہے وہ انھیں دوبارہ بھی زندگی دے سکتا ہے۔ جس نے انھیں بغیر باپ کے پیدا کیا تھا کیا یہ اس کے لیے ممکن نہیں کہ وہ انھیں دوبارہ زندگی دے کر زمین پر بھیج دے۔ اس لیے ان کے آنے کو اس حقیقت سے مجرد ہو کر دیکھنا چاہیے کہ آپ زندہ ہیں یا نہیں۔وہ زندگی تو انھیں بہرحال حاصل ہے جو شہدا کی زندگی ہے۔

پہلی بات تو یہ واضح ہے کہ قرآن مجید میں صریح الفاظ تو کیا ضمنی پہلو سے بھی کہیں حضرت عیسی علیہ السلام کے دوبارہ آنے کا ذکر نہیں ہے۔ اس کے برعکس دو مقامات ایسے ہیں جہاں ان کے دوبارہ آنے کا ذکر ہونا چاہیے لیکن حیرت کی بات ہے کہ وہاں بھی اس بات کا ذکر نہیں ہے۔

سورۂ مائدہ میں حضرت عیسی علیہ السلام کا ایک مکالمہ منقول ہے جو ان کے اور اللہ تعالی کے بیچ قیامت کے دن ہوگا۔ اس میں ان سے سوال کیا گیا ہے کہ کیا انھوں نے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو خدا کے سوا معبود بناؤ۔ اس کے جواب میں حضرت عیسی علیہ السلام نے کہا: سبحانک، میرے لیے کس طرح موزوں ہے کہ میں وہ بات کہوں جو ناحق ہے۔ آپ تو میرے دل کی بات سے واقف ہیں۔ میں اس سے واقف نہیں جو آپ کے جی میں ہے۔ اگر میں نے ایسا کہا ہوتا تو آپ کے علم میں ہوتا۔ میں نے تو ان سے وہی بات کہی تھی جس کا حکم مجھے آپ نے دیا تھا۔ جب تک میں ان کے بیچ میں تھا تو ان پر گواہ تھا۔ پھر جب آپ نے مجھے وفات دے دی تو آپ ہی ان پر نگران تھے۔ اور آپ ہر چیز پر گواہ ہیں۔ (116۔117)

اس مکالمے میں اس بات کا پورا موقع تھا کہ حضرت عیسی علیہ السلام اپنے دوبارہ آنے اور اس باطل عقیدے کی بھر پور تردید کرنے کا ذکر کرتے۔ مزید برآں اس مکالمے میں یہ بات مضمر ہے کہ حضرت عیسی اس باطل عقیدے کے پیدا ہونے سے واقف نہیں ہیں۔ اگر وہ اس دنیا میں آئے ہوتے تو ایسے جملے نہ بولتے جن سے ان کی عدم واقفیت جھلکتی ہو۔

دوسرا موقع وہ ہے جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسی علیہ السلام کو بتایا کہ اب ان کی وفات کا وقت آگیا ہے اور غلبہ اب ان کے ماننے والوں کو حاصل ہوگا اور ان کے ماننے والے قیامت تک یہود پر فائق رہیں گے۔ حوالے کے لیے دیکھیے سورۂ آل عمران کی آیت 55۔ جب پیشین گوئی کو قیامت تک کے حوالے سے بیان کیا گیا تھا تو یہاں یہ بات بیان نہ کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ تمھیں میں دوبارہ دنیا میں بھیجوں گا اور تم اس غلبے کا مشاہدہ بھی کرو گے اور ایک بار پھر ان پر حجت تمام کرو گے۔

بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے دوبارہ آنے کا عقیدہ قرآن کے مطابق نہیں ہے۔

ترجمہ

قرآن مجید عربی میں نازل ہوا ہے اور اپنے اثر و رسوخ کے ساتھ قائم دائم ہے اور قیامت تک رہے گا۔ ہم قرآن مجید کا ترجمہ تو کر سکتے ہیں مگر اس تر...