وصیت کا تصور قرآن کریم کی روشنی میں
تعریف
وصِیَّت:بطورِاحسان کسی کو اپنے مرنے کے بعد اپنے مال یا منفعت کا مالک بنادینا۔
لغوی معنی
وصیت لغت میں ہر اس چیز کو کہا جاتا ہے جس کے کرنے کا حکم دیا جائے خواہ زندگی میں یا مرنے کے بعد، لیکن عرف میں اس کام کو کہا جاتا ہے کہ مرنے کے بعد جس کے کرنے کا حکم ہو۔
قرآن کریم میں بھی وصیت کا حکم صرف جائداد اور مال کی تقسیم کے لیے وضع کیا گیا ہے۔
آیات مندرج ذیل ہیں
سورہ البقرہ
كُتِبَ عَلَيۡكُمۡ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ ٱلۡمَوۡتُ إِن تَرَكَ خَيۡرًا ٱلۡوَصِيَّةُ لِلۡوَٲلِدَيۡنِ وَٱلۡأَقۡرَبِينَ بِٱلۡمَعۡرُوفِ ۖ حَقًّا عَلَى ٱلۡمُتَّقِينَ ۔180
فَمَنۢ بَدَّلَهُ ۥ بَعۡدَمَا سَمِعَهُ ۥ فَإِنَّمَآ إِثۡمُهُ ۥ عَلَى ٱلَّذِينَ يُبَدِّلُونَهُ ۥۤ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ۔181
فَمَنۡ خَافَ مِن مُّوصٍ جَنَفًا أَوۡ إِثۡمًا فَأَصۡلَحَ بَيۡنَہُمۡ فَلَآ إِثۡمَ عَلَيۡهِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ۔ 182
ترجمہ۔
تم پر فرض کیا جاتا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت کا وقت آجائے تو اگر وہ کچھ مال چھوڑ جانے والا ہو تو ماں با پ اور رشتہ داروں کے لئے دستور کے مطابق وصیت کرجائے (خدا سے) ڈر نے والوں پر یہ ایک حق ہے۔
جو شخص وصیت کو سننے کے بعد بدل ڈالے تو اس (کے بدلنے) کا گناہ انہیں لوگوں پر ہے جو اس کو بدلیں۔ اور بےشک خدا سنتا جانتا ہے۔
اگر کسی کو وصیت کرنے والے کی طرف سے (کسی وارث کی) طرفداری یا حق تلفی کا اندیشہ ہو تو اگر وہ (وصیت کو بدل کر) وارثوں میں صلح کرادے تو اس پر کچھ گناہ نہیں۔ بےشک خدا بخشنے والا (اور) رحم والا ہے۔
سورہ المائدہ
يَـٰٓأَيُّہَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ شَہَـٰدَةُ بَيۡنِكُمۡ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ ٱلۡمَوۡتُ حِينَ ٱلۡوَصِيَّةِ ٱثۡنَانِ ذَوَا عَدۡلٍ مِّنكُمۡ أَوۡ ءَاخَرَانِ مِنۡ غَيۡرِكُمۡ إِنۡ أَنتُمۡ ضَرَبۡتُمۡ فِى ٱلۡأَرۡضِ فَأَصَـٰبَتۡكُم مُّصِيبَةُ ٱلۡمَوۡتِ ۚ تَحۡبِسُونَهُمَا مِنۢ بَعۡدِ ٱلصَّلَوٰةِ فَيُقۡسِمَانِ بِٱللَّهِ إِنِ ٱرۡتَبۡتُمۡ لَا نَشۡتَرِى بِهِۦ ثَمَنًا وَلَوۡ كَانَ ذَا قُرۡبَىٰ ۙ وَلَا نَكۡتُمُ شَہَـٰدَةَ ٱللَّهِ إِنَّآ إِذًا لَّمِنَ ٱلۡأَثِمِينَ ۔106
فَإِنۡ عُثِرَ عَلَىٰٓ أَنَّهُمَا ٱسۡتَحَقَّآ إِثۡمًا فَـَٔاخَرَانِ يَقُومَانِ مَقَامَهُمَا مِنَ ٱلَّذِينَ ٱسۡتَحَقَّ عَلَيۡہِمُ ٱلۡأَوۡلَيَـٰنِ فَيُقۡسِمَانِ بِٱللَّهِ لَشَہَـٰدَتُنَآ أَحَقُّ مِن شَہَـٰدَتِهِمَا وَمَا ٱعۡتَدَيۡنَآ إِنَّآ إِذًا لَّمِنَ ٱلظَّـٰلِمِينَ ۔107
ذَٲلِكَ أَدۡنَىٰٓ أَن يَأۡتُواْ بِٱلشَّہَـٰدَةِ عَلَىٰ وَجۡهِهَآ أَوۡ يَخَافُوٓاْ أَن تُرَدَّ أَيۡمَـٰنُۢ بَعۡدَ أَيۡمَـٰنِہِمۡ ۗ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَٱسۡمَعُواْ ۗ وَٱللَّهُ لَا يَہۡدِى ٱلۡقَوۡمَ ٱلۡفَـٰسِقِينَ ۔108
ترجمہ
مومنو! جب تم میں سے کسی کی موت آموجود ہو تو شہادت (کا نصاب) یہ ہے کہ وصیت کے وقت تم (مسلمانوں) میں سے دو عادل (یعنی صاحب اعتبار) گواہ ہوں یا اگر (مسلمان نہ ملیں اور) تم سفر کر رہے ہو اور (اس وقت) تم پر موت کی مصیبت واقع ہو تو کسی دوسرے مذہب کے دو (شخصوں کو) گواہ (کر لو) اگر تم کو ان گواہوں کی نسبت کچھ شک ہو تو ان کو (عصر کی) نماز کے بعد کھڑا کرو اور دونوں خدا کی قسمیں کھائیں کہ ہم شہادت کا کچھ عوض نہیں لیں گے گو ہمارا رشتہ دار ہی ہو اور نہ ہم الله کی شہادت کو چھپائیں گے اگر ایسا کریں گے تو گنہگار ہوں گے۔
پھر اگر معلوم ہو جائے کہ ان دونوں نے (جھوٹ بول کر) گناہ حاصل کیا ہے تو جن لوگوں کا انہوں نے حق مارنا چاہا تھا ان میں سے ان کی جگہ اور دو گواہ کھڑے ہوں جو (میت سے) قرابت قریبہ رکھتے ہوں پھر وہ خدا کی قسمیں کھائیں کہ ہماری شہادت ان کی شہادت سے بہت اچھی ہے اور ہم نے کوئی زیادتی نہیں کی ایسا کیا ہو تو ہم بےانصاف ہیں۔
اس طریق سے بہت قریب ہے کہ یہ لوگ صحیح صحیح شہادت دیں یا اس بات سے خوف کریں کہ (ہماری) قسمیں ان کی قسموں کے بعد رد کر دی جائیں گی اور خدا سے ڈرو اور اس کے حکموں کو (گوشِ ہوش سے) سنو اور خدا نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
سورہ النساء
يُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِىٓ أَوۡلَـٰدِڪُمۡ ۖ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ ٱلۡأُنثَيَيۡنِ ۚ فَإِن كُنَّ نِسَآءً فَوۡقَ ٱثۡنَتَيۡنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ ۖ وَإِن كَانَتۡ وَٲحِدَةً فَلَهَا ٱلنِّصۡفُ ۚ وَلِأَبَوَيۡهِ لِكُلِّ وَٲحِدٍ مِّنۡہُمَا ٱلسُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِن كَانَ لَهُ ۥ وَلَدٌ ۚ فَإِن لَّمۡ يَكُن لَّهُ ۥ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ ۥۤ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ ٱلثُّلُثُ ۚ فَإِن كَانَ لَهُ ۥۤ إِخۡوَةٌ فَلِأُمِّهِ ٱلسُّدُسُ ۚ مِنۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٍ يُوصِى بِہَآ أَوۡ دَيۡنٍ ۗ ءَابَآؤُكُمۡ وَأَبۡنَآؤُكُمۡ لَا تَدۡرُونَ أَيُّهُمۡ أَقۡرَبُ لَكُمۡ نَفۡعًا ۚ فَرِيضَةً مِّنَ ٱللَّهِ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا ۔11
۞ وَلَڪُمۡ نِصۡفُ مَا تَرَكَ أَزۡوَٲجُڪُمۡ إِن لَّمۡ يَكُن لَّهُنَّ وَلَدٌ ۚ فَإِن ڪَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَڪُمُ ٱلرُّبُعُ مِمَّا تَرَڪۡنَ ۚ مِنۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَآ أَوۡ دَيۡنٍ ۚ وَلَهُنَّ ٱلرُّبُعُ مِمَّا تَرَكۡتُمۡ إِن لَّمۡ يَڪُن لَّكُمۡ وَلَدٌ ۚ فَإِن ڪَانَ لَڪُمۡ وَلَدٌ فَلَهُنَّ ٱلثُّمُنُ مِمَّا تَرَڪۡتُم ۚ مِّنۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَآ أَوۡ دَيۡنٍ ۗ وَإِن كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ ڪَلَـٰلَةً أَوِ ٱمۡرَأَةٌ وَلَهُ ۥۤ أَخٌ أَوۡ أُخۡتٌ فَلِكُلِّ وَٲحِدٍ مِّنۡهُمَا ٱلسُّدُسُ ۚ فَإِن ڪَانُوٓاْ أَڪۡثَرَ مِن ذَٲلِكَ فَهُمۡ شُرَڪَآءُ فِى ٱلثُّلُثِ ۚ مِنۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٍ يُوصَىٰ بِہَآ أَوۡ دَيۡنٍ غَيۡرَ مُضَآرٍّ ۚ وَصِيَّةً مِّنَ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَلِيمٌ ۔12
ترجمہ
خدا تمہاری اولاد کے بارے میں تم کو ارشاد فرماتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے حصے کے برابر ہے۔ اور اگر اولاد میت صرف لڑکیاں ہی ہوں (یعنی دو یا) دو سے زیادہ تو کل ترکے میں ان کادو تہائی۔ اور اگر صرف ایک لڑکی ہو تو اس کا حصہ نصف۔ اور میت کے ماں باپ کا یعنی دونوں میں سے ہر ایک کا ترکے میں چھٹا حصہ بشرطیکہ میت کے اولاد ہو۔ اور اگر اولاد نہ ہو اور صرف ماں باپ ہی اس کے وارث ہوں تو ایک تہائی ماں کا حصہ۔ اور اگر میت کے بھائی بھی ہوں تو ماں کا چھٹا حصہ۔ (اور یہ تقسیم ترکہ میت کی) وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو اس نے کی ہو یا قرض کے (ادا ہونے کے بعد جو اس کے ذمے ہو عمل میں آئے گی) تم کو معلوم نہیں کہ تمہارے باپ دادؤں اور بیٹوں پوتوں میں سے فائدے کے لحاظ سے کون تم سے زیادہ قریب ہے، یہ حصے خدا کے مقرر کئے ہوئے ہیں اور خدا سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔
اور جو مال تمہاری عورتیں چھوڑ مریں۔ اگر ان کے اولاد نہ ہو تو اس میں نصف حصہ تمہارا۔ اور اگر اولاد ہو تو ترکے میں تمہارا حصہ چوتھائی۔ (لیکن یہ تقسیم) وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو انہوں نے کی ہو یا قرض کے (ادا ہونے کے بعد جو ان کے ذمے ہو، کی جائے گی) اور جو مال تم (مرد) چھوڑ مرو۔ اگر تمہارے اولاد نہ ہو تو تمہاری عورتوں کا اس میں چوتھا حصہ۔ اور اگر اولاد ہو تو ان کا آٹھواں حصہ (یہ حصے) تمہاری وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو تم نے کی ہو اور (ادائے) قرض کے (بعد تقسیم کئے جائیں گے) اور اگر ایسے مرد یا عورت کی میراث ہو جس کے نہ باپ ہو نہ بیٹا مگر اس کے بھائی بہن ہو تو ان میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ اور اگر ایک سے زیادہ ہوں تو سب ایک تہائی میں شریک ہوں گے (یہ حصے بھی ادائے وصیت و قرض بشرطیکہ ان سے میت نے کسی کا نقصان نہ کیا ہو (تقسیم کئے جائیں گے) یہ خدا کا فرمان ہے۔ اور خدا نہایت علم والا (اور) نہایت حلم والا ہے۔
Sunday, 23 September 2018
وصیت کا تصور قرآن کریم کی روشنی میں
Saturday, 22 September 2018
صدقہ جاریہ القرآن
صدقہ جاریہ
مَّثَلُ ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمۡوَٲلَهُمۡ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنۢبَتَتۡ سَبۡعَ سَنَابِلَ فِى كُلِّ سُنۢبُلَةٍ مِّاْئَةُ حَبَّةٍ ۗ وَٱللَّهُ يُضَـٰعِفُ لِمَن يَشَآءُ ۗ وَٱللَّهُ وَٲسِعٌ عَلِيمٌ
جو لوگ اپنا مال خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان (کے مال) کی مثال اس دانے کی سی ہے جس سے سات بالیں اگیں اور ہر ایک بال میں سو سو دانے ہوں اور خدا جس (کے مال) کو چاہتا ہے زیادہ کرتا ہے۔ وہ بڑی کشائش والا اور سب کچھ جاننے والا ہے
نبی کریم کی صحبت میں رہنے والے کیا آپس میں قتال کریں گے؟
نبی کریم کی صحبت میں رہنے والے کیا آپس میں قتال کریں گے؟
یہ لوگ تو آپس میں رحم دل تھے
اللہ پاک اس آیت میں ان تمام جھوٹی منگھڑت کہانیوں کی نفی کرتا ہے جو ہمارے نبی کریم اور انکے اصحاب پر تھوپی جاتی ہیں
Surah Al-Fath 29
مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ ٱللَّهِ ۚ وَٱلَّذِينَ مَعَهُ ۥۤ أَشِدَّآءُ عَلَى ٱلۡكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيۡنَہُمۡ ۖ تَرَٮٰهُمۡ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبۡتَغُونَ فَضۡلاً مِّنَ ٱللَّهِ وَرِضۡوَٲنًا ۖ سِيمَاهُمۡ فِى وُجُوهِهِم مِّنۡ أَثَرِ ٱلسُّجُودِ ۚ ذَٲلِكَ مَثَلُهُمۡ فِى ٱلتَّوۡرَٮٰةِ ۚ وَمَثَلُهُمۡ فِى ٱلۡإِنجِيلِ كَزَرۡعٍ أَخۡرَجَ شَطۡـَٔهُ ۥ فَـَٔازَرَهُ ۥ فَٱسۡتَغۡلَظَ فَٱسۡتَوَىٰ عَلَىٰ سُوقِهِۦ يُعۡجِبُ ٱلزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِہِمُ ٱلۡكُفَّارَ ۗ وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ مِنۡہُم مَّغۡفِرَةً وَأَجۡرًا عَظِيمَۢا
محمدﷺ خدا کے پیغمبر ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں کے حق میں سخت ہیں اور آپس میں رحم دل، (اے دیکھنے والے) تو ان کو دیکھتا ہے کہ (خدا کے آگے) جھکے ہوئے سر بسجود ہیں اور خدا کا فضل اور اس کی خوشنودی طلب کر رہے ہیں۔ (کثرت) سجود کے اثر سے ان کی پیشانیوں پر نشان پڑے ہوئے ہیں۔ ان کے یہی اوصاف تورات میں (مرقوم) ہیں۔ اور یہی اوصاف انجیل میں ہیں۔ (وہ) گویا ایک کھیتی ہیں جس نے (پہلے زمین سے) اپنی سوئی نکالی پھر اس کو مضبوط کیا پھر موٹی ہوئی اور پھر اپنی نال پر سیدھی کھڑی ہوگئی اور لگی کھیتی والوں کو خوش کرنے تاکہ کافروں کا جی جلائے۔ جو لوگ ان میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان سے خدا نے گناہوں کی بخشش اور اجر عظیم کا وعدہ کیا ہے
حقیقت خرافات میں کھو گئی یہ امت روایات میں گھو گئی
حقیقت خرافات میں کھو گئی
یہ امت روایات میں گھو گئی
صاحبو حقیقت کی دنیا میں کربلا کا کوئی وجود نہیں یہ سب ایرانی مجوسی جنہیں پارسی کیا جاتا کا پھیلایا ہوا جھوٹ ہے جسے ہم تیسری صدی ہجری سے سینے سے لگائے ہیں.حقیقت میں اگر ہم غیر جانبداری سے کام لیتے ہوئے عجم کے گھڑے ہوئے ان مذہبی افسانوں پر تھوڑی سی عقل و شعور استعمال کر تے ہوئے تحقیق کریں تو اس واقعے کی حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے پاکستان کے ایک سابق سفیر محمود احمد عباسی نے اس واقعے پر بہت زبردست تحقیق کی اور مکہ سے کربلا تک اونٹ اور گھوڑے کرائے پر لئے اور کربلا کی جانب سفر شروع کیا یقین جانئے وہ یہ ثابت کر نے میں کامیاب ہو گیا کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی بندہ 61 ہجری میں 9 ذوالج کو نکل کر 10 محرم تک کربلا پہنچ سکے
اندلس موجودہ سپین سے جب مسلمانوں کو دیس نکالا ملا تو آخری بچ جانے والے شہزادے کی ڈائری سے یہ پتہ چلتا ہے کہ 61 ہجری میں عرب میں ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا
بنیادی طور پر فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے دور میں ایران کی فتح کے بعد ایرانی مجوسیوں کو عربوں سے خار ہو گئی تھی کیونکہ عرب کے بدو ایرانی کسری پر غالب آگئے تھے لہذا ایران کی شکست کا بدلا لینے کے لئے ہی ابو لو فیروز مجوسی کے ہاتھوں عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کو شہید کروایا گیا اور یہ سلسلہ تیسرے اور چوتھے امیر المومنین جناب حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ اور جناب حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شہادت تک جاری رہا اور عرب کے سیدھے سادے مسلمان ایرانی مجوسی سازشوں کا شکار ہوگئے
جب قرآن میں اللہ تعالٰی نے فرما دیا کہ محمد صلعم اور ان کے رفقاء کار آپس میں نرم دل اور دشمنوں کے مقابلے میں فولاد ہیں جس کی طرف اقبال نے بھی اشارہ دیا کہ
ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم حق و باطل کو تو فولاد کے مومن
جن نفوس کی تربیت آپ صلعم نے فرمائی ہو کیا یہ ممکن ہے کہ وہ اقتدار کے لئے آپس میں لڑیں
پھر جب قرآن نے کسی اہل بیت یا آل محمد کا ذکرہی نہیں تو یہ سب کیا جب کہہ دیا کی محمد صلعم تم مردوں میں سے کسی کے بھی نہیں تو پھر آل رسول کی بات کہاں سے؟
دراصل یہ سب شیعہ مذہب کے بانی ابن سبا کی ذہنی اختراع ہے جس نے امامت اور وصی کا نظریہ گھڑا اور دور ملوکیت میں باقاعدە یہ واقعہ لکھوا کر ماتم کا آغاز کوا جبکہ حقیقت میں حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کو 10 محرم 61 ہجری میں بطور گورنر دمشق رات کے اندھیرے میں گورنر ہاوس میں گھس کر انکی ایرانی مجوسیوں نے شہید کیا جن کے ہاتھ تین امیر المومنین اور حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ کے خون سے رنگے ہیں
اللہ کے بندوں لاریب قرآن بار بار دعوت فکر دیتا ہے ان عجم کے لکھے ہوئے افسانو پر تھوڑی سی تحقیق کر لیا کرو
[23/09, 10:33 AM] Muhammad Aadil: مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ ٱللَّهِ ۚ وَٱلَّذِينَ مَعَهُ ۥۤ أَشِدَّآءُ عَلَى ٱلۡكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيۡنَہُمۡ ۖ تَرَٮٰهُمۡ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبۡتَغُونَ فَضۡلاً مِّنَ ٱللَّهِ وَرِضۡوَٲنًا ۖ سِيمَاهُمۡ فِى وُجُوهِهِم مِّنۡ أَثَرِ ٱلسُّجُودِ ۚ ذَٲلِكَ مَثَلُهُمۡ فِى ٱلتَّوۡرَٮٰةِ ۚ وَمَثَلُهُمۡ فِى ٱلۡإِنجِيلِ كَزَرۡعٍ أَخۡرَجَ شَطۡـَٔهُ ۥ فَـَٔازَرَهُ ۥ فَٱسۡتَغۡلَظَ فَٱسۡتَوَىٰ عَلَىٰ سُوقِهِۦ يُعۡجِبُ ٱلزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِہِمُ ٱلۡكُفَّارَ ۗ وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ مِنۡہُم مَّغۡفِرَةً وَأَجۡرًا عَظِيمَۢا
محمدﷺ خدا کے پیغمبر ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں کے حق میں سخت ہیں اور آپس میں رحم دل، (اے دیکھنے والے) تو ان کو دیکھتا ہے کہ (خدا کے آگے) جھکے ہوئے سر بسجود ہیں اور خدا کا فضل اور اس کی خوشنودی طلب کر رہے ہیں۔ (کثرت) سجود کے اثر سے ان کی پیشانیوں پر نشان پڑے ہوئے ہیں۔ ان کے یہی اوصاف تورات میں (مرقوم) ہیں۔ اور یہی اوصاف انجیل میں ہیں۔ (وہ) گویا ایک کھیتی ہیں جس نے (پہلے زمین سے) اپنی سوئی نکالی پھر اس کو مضبوط کیا پھر موٹی ہوئی اور پھر اپنی نال پر سیدھی کھڑی ہوگئی اور لگی کھیتی والوں کو خوش کرنے تاکہ کافروں کا جی جلائے۔ جو لوگ ان میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان سے خدا نے گناہوں کی بخشش اور اجر عظیم کا وعدہ کیا ہے
: نبی کریم کی صحبت میں رہنے والے کیا آپس میں قتال کریں گے؟
یہ لوگ تو آپس میں رحم دل تھے
اللہ پاک اس آیت میں ان تمام جھوٹی منگھڑت کہانیوں کی نفی کرتا ہے جو ہمارے نبی کریم اور انکے اصحاب پر تھوپی جاتی ہیں
Friday, 21 September 2018
کیا میت کے حق میں مومن اور فرشتوں کی دعا مغفرت قبول ہوتی ہے؟
کیا میت کے حق میں مومن اور فرشتوں کی دعا مغفرت قبول ہوتی ہے؟
گناہ 2 قسم کے ہوتے ہیں
1.گناہ کبیرہ
ایسے گناہ جن کی کسی صورت بخشش نہیں.
* شرک
(جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرے گا اللہ اس پر بہشت حرام کر دے گا اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں سورۃ المائدہ،آیت72 )
* اللہ کی آیات کا انکار
Surah Al-A'raf 40
إِنَّ ٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَـٰتِنَا وَٱسۡتَكۡبَرُواْ عَنۡہَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمۡ أَبۡوَٲبُ ٱلسَّمَآءِ وَلَا يَدۡخُلُونَ ٱلۡجَنَّةَ حَتَّىٰ يَلِجَ ٱلۡجَمَلُ فِى سَمِّ ٱلۡخِيَاطِ ۚ وَڪَذَٲلِكَ نَجۡزِى ٱلۡمُجۡرِمِينَ
جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے سرتابی کی۔ ان کے لیے نہ آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے اور نہ وہ بہشت میں داخل ہوں گے۔ یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سے نہ نکل جائے اور گنہگاروں کو ہم ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں
2.گناہ صغیرہ
سورہ النساء 31
إِن تَجۡتَنِبُواْ ڪَبَآٮِٕرَ مَا تُنۡہَوۡنَ عَنۡهُ نُكَفِّرۡ عَنكُمۡ سَيِّـَٔاتِكُمۡ وَنُدۡخِلۡڪُم مُّدۡخَلاً كَرِيمًا
اگر تم بڑے بڑے گناہوں سے جن سے تم کو منع کیا جاتا ہے اجتناب رکھو گے تو ہم تمہارے (چھوٹے چھوٹے) گناہ معاف کردیں گے اور تمہیں عزت کے مکانوں میں داخل کریں گے
جواب
گناہ صغیرہ کی معافی ہو سکتی ہے پر گناہ کبیرہ کی معافی نہیں ہو سکتی کیونکہ اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کر تا.
معافی کا سبب کچھ بھی بن سکتا ہے وہ چاہے دعا ہو یا رحمت خدا.
ترجمہ
قرآن مجید عربی میں نازل ہوا ہے اور اپنے اثر و رسوخ کے ساتھ قائم دائم ہے اور قیامت تک رہے گا۔ ہم قرآن مجید کا ترجمہ تو کر سکتے ہیں مگر اس تر...
-
وَٱتَّقُواْ يَوۡمًا لَّا تَجۡزِى نَفۡسٌ عَن نَّفۡسٍ شَيْئًا وَلَا يُقۡبَلُ مِنۡہَا شَفَـٰعَةٌ وَلَا يُؤۡخَذُ مِنۡہَا عَدۡلٌ وَلَا هُمۡ يُنصَ...
-
ج ٱلزَّانِيَةُ وَٱلزَّانِى فَٱجۡلِدُواْ كُلَّ وَٲحِدٍ مِّنۡہُمَا مِاْئَةَ جَلۡدَةٍ ۖ وَلَا تَأۡخُذۡكُم بِہِمَا رَأۡفَةٌ فِى دِينِ ٱل...
-
کیوں زیاں کار بنوں خُود فراموش رہُوں؟ فکرِ فردا نہ کروں ، محوِ غمِ دوش رہوں نالے بلبل کے سنوں ، اور ہمہ تن گوش رہوں ہمنوا ! میں بھی کوئی گُل...