Monday, 31 July 2017

سلام کرنا فرض ہے


فَإِذَا دَخَلۡتُم بُيُوتًا فَسَلِّمُواْ عَلَىٰٓ أَنفُسِكُمۡ تَحِيَّةً مِّنۡ عِندِ ٱللَّهِ مُبَـٰرَڪَةً طَيِّبَةً
اور جب گھروں میں جایا کرو تو اپنے (گھر والوں کو) سلام کیا کرو۔ (یہ) خدا کی طرف سے مبارک اور پاکیزہ تحفہ ہے۔ سورہ النور آیت 61

اللہ کی راہ میں کس قسم کا مال خرچ کرنا چاہیے؟

لَن تَنَالُواْ ٱلۡبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُواْ مِمَّا تُحِبُّونَ ۚ وَمَا تُنفِقُواْ مِن شَىۡءٍ فَإِنَّ ٱللَّهَ بِهِۦ عَلِيم
ٌ(مومنو!) جب تک تم ان چیزوں میں سے جو تمھیں عزیز ہیں (اللہ کی راہ میں) صرف نہ کرو گے کبھی نیکی حاصل نہ کر سکو گے اور جو چیز تم صرف کرو گے اللہ اس کو جانتا ہے.سورہ آل عمران آیت 92

کیا اللہ دنیا و آخرت میں اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے؟

*
مَن كَانَ يَظُنُّ أَن لَّن يَنصُرَهُ ٱللَّهُ فِى ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأَخِرَةِ فَلۡيَمۡدُدۡ بِسَبَبٍ إِلَى ٱلسَّمَآءِ ثُمَّ لۡيَقۡطَعۡ فَلۡيَنظُرۡ هَلۡ يُذۡهِبَنَّ كَيۡدُهُ ۥ مَا يَغِيظُ
جو شخص یہ گمان کرتا ہے کہ اللہ اس کو دنیا اور آخرت میں مدد نہیں دے گا تو اس کو چاہیئے کہ اوپر کی طرف (یعنی اپنے گھر کی چھت میں) ایک رسی باندھے پھر (اس سے اپنا) گلا گھونٹ لے۔ پھر دیکھے کہ آیا یہ تدبیر اس کے غصے کو دور کردیتی ہے.
سورہ الحج آیت 15

Sunday, 30 July 2017

سور کیوں حرام ہے ؟ اس کے گوشت کے نقصانات کیا کیا ہیں ؟ ایک مسیحی کی تحریر

کیا آپ کو اپنے بزرگوں کی سکھائی ہوئی یہ بات یاد ہے کہ لفظ سور نہیں کہنا چاہیے، اس سے زبان ناپاک ہو جاتی ہے۔میں بھی کئی سال یہی سمجھتا رہا۔ بعد میں قرآن پاک اورترجمہ پڑھا تو انکشاف ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے خود اپنی کتاب میں اس جانور کا نام لے کر ذکر کیا ہے کہ یہ حرام ہے ۔ جبکہ یہ تحریر ایک مسیحی کی لکھی ہوئی پوسٹ سے لی گئی ہیں۔اس مسیح کی لکھی گئی پوسٹ کے مطابق سور کی غذا نہایت ہی گندی ہوتی ہے۔ یہ فضلہ جات کھا لیتا ہے، خراب پھل، سبزیاں، مردہ جانور اور کیڑے مکوڑے سب کچھ نگل جاتا ہے۔سور کا گوشت غذاوں میں پوشیدہ زہریلے کیمیل ایک فوم کی طرح چوستا ہے۔ اس لیے اس کا گوشت زہریلا ہوتا ہے۔دودھ پلانے والے دیگر جانوروں کی طرح سور کو پسینہ نہیں آتا۔ پسینے کا ایک مقصد جسم سے فاسد مادوں کو خارج کرنا ہے۔ لہذا پسینہ نہ آنے کی وجہ سے یہ فاسد مادے سور کے جسم میں ہی رہتے ہیں۔سور کے گوشت کیڑے مکوڑے دوسرے جانوروں کے گوشت کی نسبت زیادہ جلد آ جاتے ہیں۔ سور اپنی گندی غذا کو بھی محض چار گھنٹوں میں ہضم کر لیتا ہے۔ یعنی ان کا نظام انہظام خوراک کو اچھی طرح صاف نہیں کرتا۔سور میں ایسی لگ بھگ 30 بیماریاں ہیں جو آسانی سے انسانوں میں منتقل ہو سکتی ہیں۔ اس لیے بائبل میں عیسائیوں کو سوروں کے پنجر تک کو چھونے سے منع کیا ہے۔

نیکی کیا ہے

لَّيۡسَ ٱلۡبِرَّ أَن تُوَلُّواْ وُجُوهَكُمۡ قِبَلَ ٱلۡمَشۡرِقِ وَٱلۡمَغۡرِبِ وَلَـٰكِنَّ ٱلۡبِرَّ مَنۡ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأَخِرِ وَٱلۡمَلَـٰٓٮِٕڪَةِ وَٱلۡكِتَـٰبِ وَٱلنَّبِيِّـۧنَ وَءَاتَى ٱلۡمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِۦ ذَوِى ٱلۡقُرۡبَىٰ وَٱلۡيَتَـٰمَىٰ وَٱلۡمَسَـٰكِينَ وَٱبۡنَ ٱلسَّبِيلِ وَٱلسَّآٮِٕلِينَ وَفِى ٱلرِّقَابِ وَأَقَامَ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَى ٱلزَّڪَوٰةَ وَٱلۡمُوفُونَ بِعَهۡدِهِمۡ إِذَا عَـٰهَدُواْ‌ ۖ وَٱلصَّـٰبِرِينَ فِى ٱلۡبَأۡسَآءِ وَٱلضَّرَّآءِ وَحِينَ ٱلۡبَأۡسِ ۗ أُوْلَـٰٓٮِٕكَ ٱلَّذِينَ صَدَقُواْ‌ ۖ وَأُوْلَـٰٓٮِٕكَ هُمُ ٱلۡمُتَّقُون
َنیکی یہی نہیں کہ تم مشرق یا مغرب کو (قبلہ سمجھ کر ان) کی طرف منہ کرلو بلکہ نیکی یہ ہے کہ لوگ خدا پر اور روز آخرت پر اور فرشتوں پر اور (خدا کی) کتاب پر اور پیغمبروں پر ایمان لائیں۔ اور مال باوجود عزیز رکھنے کے رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں اور مانگنے والوں کو دیں اور گردنوں (کے چھڑانے) میں (خرچ کریں) اور نماز پڑھیں اور زکوٰة دیں۔ اور جب عہد کرلیں تو اس کو پورا کریں۔ اور سختی اور تکلیف میں اور (معرکہ) کارزار کے وقت ثابت قدم رہیں۔ یہی لوگ ہیں جو (ایمان میں) سچے ہیں اور یہی ہیں جو (خدا سے) ڈرنے والے ہیں. سورہ البقرہ آیت 177
نیک کام میں تعاون کریں
وَتَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡبِرِّ وَٱلتَّقۡوَىٰ‌ ۖ وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٲنِ ۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ‌ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَاب
ِاور (دیکھو) نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو اور گناہ اور ظلم کی باتوں میں مدد نہ کیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ کچھ شک نہیں کہ اللہ کا عذاب سخت ہے. سورہ المائدہ آیت 2

إِنَّ ٱللَّهَ يَأۡمُرُ بِٱلۡعَدۡلِ وَٱلۡإِحۡسَـٰنِ وَإِيتَآىِٕ ذِى ٱلۡقُرۡبَىٰ وَيَنۡهَىٰ عَنِ ٱلۡفَحۡشَآءِ وَٱلۡمُنڪَرِ وَٱلۡبَغۡىِ ۚ يَعِظُكُمۡ لَعَلَّڪُمۡ تَذَكَّرُونَ
اللہ حکم کرتا ہے انصاف کرنے کا اور بھلائی کرنے کا اور قرابت والوں کے (کو) دینے کا [۱۴۹] اور منع کرتا ہے بے حیائی سے اور نامعقول کام سے اور سرکشی سے [۱۵۰] تم کو سمجھاتا ہے تاکہ تم یاد رکھو [۱۵۱] سورہ النحل آیت 90

Saturday, 29 July 2017

قرآن کی ترتیب نزولی

ج
مکی سورتیں !!
دائیں طرف نزول کی ترتیب نمبر وار ھے ،سورت کے سامنے قرآن میں اس کا موجودہ نمبر ھے
تین سورتیں ایسی ھیں جو جس ترتیب سے نازل ھوئ ھیں اُسی ترتیب سے قرآن میں اسی جگہ موجود ھیں ،،1- سورۃ ص – 38، 2- سورہ نوح 71،، 3- سورہ الانفطار- 82
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
1- العلق- 96
2- القلم- 68
3- المزمّّل- 73
4 -المدّثر- 74
5- الفاتحة-1
6 -المسد- 111
7- التكوير -81
8- الأعلى- 87
9- الليل -92
10- الفجر- 89
11- الضحى- 93
12 -الشرح- 94
13 -العصر -103
14- العاديات- 100
15- الكوثر -108
16- التكاثر- 102
17- الماعون -107
18- الكافرون- 109
19 -الفيل -105
20 -الفلق- 113
21- الناس- 114
22- الاخلاص- 112
23- النجم -53
24- عبس -80
25-القدر -97
26- الشمس- 91
27 -البروج- 85
28- التين -95
29 -قريش -106
30- القارعة- 101
31- القيامة- 75
32- الهمزة- 104
33- المرسلات- 77
34- ق- 50
35 -البلد- 90
36- الطارق- 86
37- القمر- 54
38 -ص- 38
39- الأعراف- 7
40 -الجن -72
41- يس -36
42- الفرقان -25
43- فاطر -35
44- مريم- 19
45- طه- 20
46- الواقعة- 56
47- الشعراء -26
48- النمل -27
49- القصص- 28
50- الإسراء- 17
51- يونس -10
52- هود -11
53- يوسف- 12
54- الحجر -15
55- الأنعام -6
56- الصافّات- 37
57- لقمان -31
58- سبأ -34
59- الزمر -39
60- غافر -40
61- فصّلت- 41
62 -الشورى -42
63- الزخرف- 43
64- الدخان -44
65 -الجاثية -45
66- الأحقاف- 46
67- الذاريات -51
68- الغاشية- 88
69- الكهف -18
70- النحل -16
71 نوح -71
72- إبراهيم- 14
73- الأنبياء -21
74- المؤمنون -23
75- السجدة- 32
76- الطور -52
77- الملك- 67
78- الحاقّة- 69
79- المعارج- 70
80- النبأ -78
81 -النازعات- 79
82- الانفطار -82
83- الانشقاق- 84
84- الروم- 30
85- العنكبوت -29
86- المطففين -83

مدنی سورتیں !!!

87- البقرة- 2
88- الأنفال- 8
89- آل عمران- 3
90 -الأحزاب- 33
91- الممتحنة -60
92- النساء -4
93- الزلزال- 99
94- الحديد- 57
95- محمد -47
96- الرعد -13
97- الرحمان- 55
98- الإنسان -76
99- الطلاق -65
100- البيّنة -98
101- الحشر -59
102- النصر- 110
103- النور -24
104- الحج -22
105- المنافقون -63
106- المجادلة -58
107- الحجرات- 49
108 -التحريم -66
109- الجمعة -62
110- التغابن -64
111- الصف-61
112- الفتح -48
113- المائدة-(6)
114 -براءة -التوبہ-9

Thursday, 27 July 2017

قرآن میں حرام و حلال جانوروں کا ذکر

ج
اے ایمان والوں، کھاؤ ان خوشگوار چیزوں کو جو ہم نے تمہیں مہیا کی ہیں اور اللہ کا شکر ادا کرواگر تم اس کی عبدیت کرتے ہو۔ تم پر حرام ہے (1) مردار جانور (2) خون (3) خنزیر کا گوشت (4) ہر کھانے کی چیز جو اللہ کے سوا کسی اور کی طرف منسوب ہو۔ پھر جو مجبور ہو جائے اور وہ حد سے نکلنے والا اور زیادتی کرنے والا نہ ہو، اس پر کوئی گناہ نہیں ہے (البقرہ ۔ 172-173)۔

یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا اللہ کے رسول کسی ایسی چیز کو حرام قرار دے سکتے ہیں جس کو اللہ نے حرام قرار نہیں دیا ہو؟ قرآن اس بارے میں بالکل واضح ہے۔ اس نے کھلے الفاظ میں یہ اعلان کر دیا ہے کہ اللہ نے کسی دوسرے کو یہ اختیار نہیں دیا کہ وہ کسی ایسی شے کو حرام قرار دے جسے اللہ نے حرام قرار نہ دیا ہو۔

کہہ دو وہ کون ہے جو زینت کی چیزوں کو جو اللہ نے اپنے بندوں کے لئے نکالی ہیں اور کھانے کی خوشگوار چیزوں کو حرام قرار دے؟ کہہ دو کہ یہ چیزیں مومنوں کے لئے ہیں اس دنیا میں خالص قیامت کا دن۔ اس طرح ہم آیات کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لئے جو علم رکھتے ہیں (الاعراف – 32)۔

خدا نے تو رسول اللہ کو کسی ایسی چیز کو اپنی ذات پر بھی حرام کرنے کی اجازت نہیں دی جسے اس نے حرام قرار نہ دیا ہو۔

اے نبی! کیوں آپ اسے حرام کرتے ہیں جسے اللہ نے آپ کے لئے حلال کیا ہے؟ (التحریم ۔ 1)۔

جیسا کہ اوپر کی آیات سے واضح ہے، اللہ نے کسی دوسرے کو یہ اختیار نہیں دیا کہ وہ کسی ایسی شے کو حرام قرار دے جسے اللہ نے حرام قرار نہ دیا ہو۔ حقیقتاً قرآن نے خود رسول اللہ کی زبانی یہ کہلوایا ہے کہ اللہ نے صرف ان ہی چار اشیاء کو حرام قرار دیا ہے۔

کہہ دو! جو میری طرف وحی کیا گیا ہے میں اس میں کھانے والوں کے لئے کوئی چیز حرام نہیں پاتا بجز مردار جانور یا بہتا ہوا خون یا خنزیر کا گوشت کیونکہ یہ ناپاک ہے یا وہ چیز جو اللہ کے سوا کسی اور کی طرف منسوب ہو جو سرکشی ہے۔ پھر جو مجبور ہو جائے اور وہ حد سے نکلنے والا اور ذیادتی کرنے والا نہ ہو، تو بیشک اللہ غفور اور رحیم ہے (الانعام ۔ 145)۔

کوئی ابہام نہیں، کسی غلط فہمی کی گنجائش نہیں۔ بہت ہی صاف اور واضح الفاظ میں بیان کر دیا کہ صرف چار کھانے کی اشیاء کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے اور رسول کی زبانی اسکی تصدیق بھی کر دی۔ ان چار کے علاوہ کوئی کھانے کی چیز حرام نہیں ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ پر لازم ہے کہ آپ ہر وہ چیز کھائیں جو حرام نہیں ہے۔ ہر شخص کی کھانے کے معاملےمیں پسند اور ناپسند ہوتی ہے اور اس چیز کو خدا سے بہتر اور کون سمجھ سکتا ہے۔ اسی لئے خدا نے ہمیں کھلی آزادی دی ہے کہ ہم ان تمام چیزوں میں سے جو حرام نہیں ہیں اپنی پسند کی کوئی بھی چیز کھا سکتے ہیں۔

کھاؤ ان خوشگوار چیزوں کو جو ہم نے تمہں مہیا کی ہیں اور اللہ کا شکر ادا کرواگر تم اس کی عبدیت کرتے ہو(البقرہ – 172)۔

یہ تم سے پوچھتے ہیں کہ ان کے لئے کیا حلال ہے۔ کہہ دو کہ تمہارے لئے خوشگوار چیزیں حلال ہیں (المائدہ – 4)۔

آج تمہارے لئے خوشگوار چیزیں حلال کردی گئیں ہیں اور اہل کتاب کا کھانا تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کے لئے حلال ہے (المائدہ – 5)۔

اور کھاؤ جو کچھ حلال اور خوشگوار رزق اللہ نے عطا کیا ہے اور اللہ کی نعمتوں کا شکر کرو اگر تم اس کی عبدیت کرتے ہو۔ تم پر صرف حرام ہے مردار جانور اور خون اور خنزیر کا گوشت اور وہ چیز جو اللہ کے سوا کسی اور کی طرف منسوب ہو۔ پھر جو مجبور ہو جائے اور وہ حد سے نکلنے والا اور ذیادتی کرنے والا نہ ہو، تو بیشک اللہ غفور اور رحیم ہے (النحل – 114-115)۔

آخری دو آیات پر خاص توجہ کی ضرورت ہے۔ المائدہ کی آیت اس بات کا اعلان کرتی ہے کہ تمام اہل کتاب کا کھانا حلال ہے۔ کو‏ئی تخصیص نہیں ان کے کھانوں میں جس کا مطلب یہ کہ بجز ان چار اشیاء کے ان کا کوئی کھانا کھایا جا سکتا ہے۔ یہ بات بھی غور طلب ہے کہ اہل کتاب میں ہر وہ قوم شامل ہے جس کی طرف کتاب نازل کی گئی اور یہ حکم صرف یہودیوں اور عیسائیوں تک محدود نہیں۔ النحل کی آیت یہ واضح کرتی ہے کہ بجز ان چار اشیاء کے جنہیں اللہ نے حرام قرار دیا ہے، ہر کھانے کی چیز جو اس نے مہیاء کی ہے وہ حلال ہے اور ان میں سے کو‏ئی بھی کھانے کی چیز جو آپ کو پسند ہو وہ کھا سکتے ہیں۔ ایک اہم بات جو قابل غور ہے وہ یہ کہ اللہ نے حلال اشیاء کی تفصیل نہیں دی بلکہ حرام اشیاء کی تفصیل دی ہے۔ یعنی بنیادی طور پر اللہ نے حرام اشیاء کی فہرست مہیا کردی اور جو بھی چیز اس فہرست میں نہیں وہ کھانے کے لئے حلال ہے۔

‎اس حرام اشیاء کی فہرست کے علاوہ قرآن نے جانوروں سے مطالق کچھ تفصیلی ہدایات دی ہیں۔

تم پر حرام ہے مردار جانور اور خون اور خنزیر کا گوشت اور وہ چیز جو اللہ کے سوا کسی اور کی طرف منسوب ہو اور جو گلا گھٹنے سے مرا ہو اور جو ضرب سے مرا ہو اور جو اونچی جگہ سے گر کر مرا ہو اور جو کسی کے سینگ سے مرا ہو اور جسے درندوں نے پھاڑ کھایا ہو بجز اس کے جسے تم صاف کر لو اور جو آستانوں پر ذبح کئے جائیں اور فال گیری کرو۔ یہ سب حدود شکنی ہے (المائدہ – 3)۔

یہ تم سے پوچھتے ہیں کہ ان کے لئے کیا حلال ہے۔ کہہ دو کہ تمہارے لئے خوشگوار چیزیں حلال ہیں۔ اور جن شکاری جانوروں کو تم نے سدھا رکھا ہے اس علم کی بنیاد پر جو اللہ نے تمہیں دیا۔ پس جس شکار کو وہ پکڑ کر لائے اسے کھا لو اور اس پر اللہ کا نام لو (المائدہ – 4)۔

تمہارے لئے چوپائے حلال کر دیئے گئے بجز ان کے جو تم کو پڑھ کر سنا دیئے (الحج – 30)۔

Wednesday, 26 July 2017

اللہ کی رہ میں کس طرح کا مال خرچ کرنا چاہیے اور کن لوگوں پر

ج
يَسۡـَٔلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ‌   ۖ   قُلۡ مَآ أَنفَقۡتُم مِّنۡ خَيۡرٍ فَلِلۡوَٲلِدَيۡنِ وَٱلۡأَقۡرَبِينَ وَٱلۡيَتَـٰمَىٰ وَٱلۡمَسَـٰكِينِ وَٱبۡنِ ٱلسَّبِيلِ   ۗ   وَمَا تَفۡعَلُواْ مِنۡ خَيۡرٍ فَإِنَّ ٱللَّهَ بِهِۦ عَلِيمٌ
(اے محمدﷺ) لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ (خدا کی راہ میں) کس طرح کا مال خرچ کریں۔ کہہ دو کہ (جو چاہو خرچ کرو لیکن) جو مال خرچ کرنا چاہو وہ (درجہ بدرجہ اہل استحقاق یعنی) ماں باپ اور قریب کے رشتے داروں کو اور یتیموں کو اور محتاجوں کو اور مسافروں کو (سب کو دو) اور جو بھلائی تم کرو گے خدا اس کو جانتا ہے. سورہ البقرہ آیت 215

Monday, 24 July 2017

طلاق

ج
البقرہ آیت 225 سے
سورہ طلاق آیت 1 سے

زانی کی سزا کیا ہے

  ج

ٱلزَّانِيَةُ وَٱلزَّانِى فَٱجۡلِدُواْ كُلَّ وَٲحِدٍ مِّنۡہُمَا مِاْئَةَ جَلۡدَةٍ‌   ۖ   وَلَا تَأۡخُذۡكُم بِہِمَا رَأۡفَةٌ فِى دِينِ ٱللَّهِ إِن كُنتُمۡ تُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأَخِرِ‌   ۖ   وَلۡيَشۡہَدۡ عَذَابَہُمَا طَآٮِٕفَةٌ مِّنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
بدکاری کرنے والی عورت اور بدکاری کرنے والا مرد (جب ان کی بدکاری ثابت ہوجائے تو) دونوں میں سے ہر ایک کو سو درے مارو۔ اور اگر تم خدا اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو شرع خدا (کے حکم) میں تمہیں ان پر ہرگز ترس نہ آئے۔ اور چاہیئے کہ ان کی سزا کے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت بھی موجود ہو. سورہ النور آیت 2

پاک عورت پر بدکاری کا الزام لگانے کی سزا. سورہ النور آیت 4
وَٱلَّذِينَ يَرۡمُونَ ٱلۡمُحۡصَنَـٰتِ ثُمَّ لَمۡ يَأۡتُواْ بِأَرۡبَعَةِ شُہَدَآءَ فَٱجۡلِدُوهُمۡ ثَمَـٰنِينَ جَلۡدَةً وَلَا تَقۡبَلُواْ لَهُمۡ شَہَـٰدَةً أَبَدًا  ۚ  وَأُوْلَـٰٓٮِٕكَ هُمُ ٱلۡفَـٰسِقُونَ
اور جو لوگ پرہیزگار عورتوں کو بدکاری کا عیب لگائیں اور اس پر چار گواہ نہ لائیں تو ان کو اسی درے مارو اور کبھی ان کی شہادت قبول نہ کرو۔ اور یہی بدکردار ہیں

قرآن کریم میں سود کا ذکر

سورہ البقرہ 275
سورہ الروم 39
سورہ آل عمران 130
انساء 160 اور 161

قصہ آدم و ابلیس (القران)

وَلَقَدۡ خَلَقۡنَـٰڪُمۡ ثُمَّ صَوَّرۡنَـٰكُمۡ ثُمَّ قُلۡنَا لِلۡمَلَـٰٓٮِٕكَةِ ٱسۡجُدُواْ لِأَدَمَ فَسَجَدُوٓاْ إِلَّآ إِبۡلِيسَ لَمۡ يَكُن مِّنَ ٱلسَّـٰجِدِينَ اور ہم ہی نے تم کو (ابتدا میں مٹی سے) پیدا کیا پھر تمہاری صورت شکل بنائی پھر فرشتوں کو حکم دیا آدم کے آگے سجدہ کرو تو (سب نے) سجدہ کیا لیکن ابلیس کہ وہ سجدہ کرنے والوں میں (شامل) نہ ہوا قَالَ مَا مَنَعَكَ أَلَّا تَسۡجُدَ إِذۡ أَمَرۡتُكَ‌   ۖ   قَالَ أَنَا۟ خَيۡرٌ مِّنۡهُ خَلَقۡتَنِى مِن نَّارٍ وَخَلَقۡتَهُ  ۥ مِن طِينٍ (خدا نے) فرمایا جب میں نے تجھ کو حکم دیا تو کس چیز نے تجھے سجدہ کرنے سے باز رکھا۔ اس نے کہا کہ میں اس سے افضل ہوں۔ مجھے تو نے آگ سے پیدا کیا ہے اور اسے مٹی سے بنایا ہے قَالَ مَا مَنَعَكَ أَلَّا تَسۡجُدَ إِذۡ أَمَرۡتُكَ‌   ۖ   قَالَ أَنَا۟ خَيۡرٌ مِّنۡهُ خَلَقۡتَنِى مِن نَّارٍ وَخَلَقۡتَهُ  ۥ مِن طِينٍ (خدا نے) فرمایا جب میں نے تجھ کو حکم دیا تو کس چیز نے تجھے سجدہ کرنے سے باز رکھا۔ اس نے کہا کہ میں اس سے افضل ہوں۔ مجھے تو نے آگ سے پیدا کیا ہے اور اسے مٹی سے بنایا ہے

ترجمہ

قرآن مجید عربی میں نازل ہوا ہے اور اپنے اثر و رسوخ کے ساتھ قائم دائم ہے اور قیامت تک رہے گا۔ ہم قرآن مجید کا ترجمہ تو کر سکتے ہیں مگر اس تر...