ج
اے ایمان والوں، کھاؤ ان خوشگوار چیزوں کو جو ہم نے تمہیں مہیا کی ہیں اور اللہ کا شکر ادا کرواگر تم اس کی عبدیت کرتے ہو۔ تم پر حرام ہے (1) مردار جانور (2) خون (3) خنزیر کا گوشت (4) ہر کھانے کی چیز جو اللہ کے سوا کسی اور کی طرف منسوب ہو۔ پھر جو مجبور ہو جائے اور وہ حد سے نکلنے والا اور زیادتی کرنے والا نہ ہو، اس پر کوئی گناہ نہیں ہے (البقرہ ۔ 172-173)۔
یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا اللہ کے رسول کسی ایسی چیز کو حرام قرار دے سکتے ہیں جس کو اللہ نے حرام قرار نہیں دیا ہو؟ قرآن اس بارے میں بالکل واضح ہے۔ اس نے کھلے الفاظ میں یہ اعلان کر دیا ہے کہ اللہ نے کسی دوسرے کو یہ اختیار نہیں دیا کہ وہ کسی ایسی شے کو حرام قرار دے جسے اللہ نے حرام قرار نہ دیا ہو۔
کہہ دو وہ کون ہے جو زینت کی چیزوں کو جو اللہ نے اپنے بندوں کے لئے نکالی ہیں اور کھانے کی خوشگوار چیزوں کو حرام قرار دے؟ کہہ دو کہ یہ چیزیں مومنوں کے لئے ہیں اس دنیا میں خالص قیامت کا دن۔ اس طرح ہم آیات کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لئے جو علم رکھتے ہیں (الاعراف – 32)۔
خدا نے تو رسول اللہ کو کسی ایسی چیز کو اپنی ذات پر بھی حرام کرنے کی اجازت نہیں دی جسے اس نے حرام قرار نہ دیا ہو۔
اے نبی! کیوں آپ اسے حرام کرتے ہیں جسے اللہ نے آپ کے لئے حلال کیا ہے؟ (التحریم ۔ 1)۔
جیسا کہ اوپر کی آیات سے واضح ہے، اللہ نے کسی دوسرے کو یہ اختیار نہیں دیا کہ وہ کسی ایسی شے کو حرام قرار دے جسے اللہ نے حرام قرار نہ دیا ہو۔ حقیقتاً قرآن نے خود رسول اللہ کی زبانی یہ کہلوایا ہے کہ اللہ نے صرف ان ہی چار اشیاء کو حرام قرار دیا ہے۔
کہہ دو! جو میری طرف وحی کیا گیا ہے میں اس میں کھانے والوں کے لئے کوئی چیز حرام نہیں پاتا بجز مردار جانور یا بہتا ہوا خون یا خنزیر کا گوشت کیونکہ یہ ناپاک ہے یا وہ چیز جو اللہ کے سوا کسی اور کی طرف منسوب ہو جو سرکشی ہے۔ پھر جو مجبور ہو جائے اور وہ حد سے نکلنے والا اور ذیادتی کرنے والا نہ ہو، تو بیشک اللہ غفور اور رحیم ہے (الانعام ۔ 145)۔
کوئی ابہام نہیں، کسی غلط فہمی کی گنجائش نہیں۔ بہت ہی صاف اور واضح الفاظ میں بیان کر دیا کہ صرف چار کھانے کی اشیاء کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے اور رسول کی زبانی اسکی تصدیق بھی کر دی۔ ان چار کے علاوہ کوئی کھانے کی چیز حرام نہیں ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ پر لازم ہے کہ آپ ہر وہ چیز کھائیں جو حرام نہیں ہے۔ ہر شخص کی کھانے کے معاملےمیں پسند اور ناپسند ہوتی ہے اور اس چیز کو خدا سے بہتر اور کون سمجھ سکتا ہے۔ اسی لئے خدا نے ہمیں کھلی آزادی دی ہے کہ ہم ان تمام چیزوں میں سے جو حرام نہیں ہیں اپنی پسند کی کوئی بھی چیز کھا سکتے ہیں۔
کھاؤ ان خوشگوار چیزوں کو جو ہم نے تمہں مہیا کی ہیں اور اللہ کا شکر ادا کرواگر تم اس کی عبدیت کرتے ہو(البقرہ – 172)۔
یہ تم سے پوچھتے ہیں کہ ان کے لئے کیا حلال ہے۔ کہہ دو کہ تمہارے لئے خوشگوار چیزیں حلال ہیں (المائدہ – 4)۔
آج تمہارے لئے خوشگوار چیزیں حلال کردی گئیں ہیں اور اہل کتاب کا کھانا تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کے لئے حلال ہے (المائدہ – 5)۔
اور کھاؤ جو کچھ حلال اور خوشگوار رزق اللہ نے عطا کیا ہے اور اللہ کی نعمتوں کا شکر کرو اگر تم اس کی عبدیت کرتے ہو۔ تم پر صرف حرام ہے مردار جانور اور خون اور خنزیر کا گوشت اور وہ چیز جو اللہ کے سوا کسی اور کی طرف منسوب ہو۔ پھر جو مجبور ہو جائے اور وہ حد سے نکلنے والا اور ذیادتی کرنے والا نہ ہو، تو بیشک اللہ غفور اور رحیم ہے (النحل – 114-115)۔
آخری دو آیات پر خاص توجہ کی ضرورت ہے۔ المائدہ کی آیت اس بات کا اعلان کرتی ہے کہ تمام اہل کتاب کا کھانا حلال ہے۔ کوئی تخصیص نہیں ان کے کھانوں میں جس کا مطلب یہ کہ بجز ان چار اشیاء کے ان کا کوئی کھانا کھایا جا سکتا ہے۔ یہ بات بھی غور طلب ہے کہ اہل کتاب میں ہر وہ قوم شامل ہے جس کی طرف کتاب نازل کی گئی اور یہ حکم صرف یہودیوں اور عیسائیوں تک محدود نہیں۔ النحل کی آیت یہ واضح کرتی ہے کہ بجز ان چار اشیاء کے جنہیں اللہ نے حرام قرار دیا ہے، ہر کھانے کی چیز جو اس نے مہیاء کی ہے وہ حلال ہے اور ان میں سے کوئی بھی کھانے کی چیز جو آپ کو پسند ہو وہ کھا سکتے ہیں۔ ایک اہم بات جو قابل غور ہے وہ یہ کہ اللہ نے حلال اشیاء کی تفصیل نہیں دی بلکہ حرام اشیاء کی تفصیل دی ہے۔ یعنی بنیادی طور پر اللہ نے حرام اشیاء کی فہرست مہیا کردی اور جو بھی چیز اس فہرست میں نہیں وہ کھانے کے لئے حلال ہے۔
اس حرام اشیاء کی فہرست کے علاوہ قرآن نے جانوروں سے مطالق کچھ تفصیلی ہدایات دی ہیں۔
تم پر حرام ہے مردار جانور اور خون اور خنزیر کا گوشت اور وہ چیز جو اللہ کے سوا کسی اور کی طرف منسوب ہو اور جو گلا گھٹنے سے مرا ہو اور جو ضرب سے مرا ہو اور جو اونچی جگہ سے گر کر مرا ہو اور جو کسی کے سینگ سے مرا ہو اور جسے درندوں نے پھاڑ کھایا ہو بجز اس کے جسے تم صاف کر لو اور جو آستانوں پر ذبح کئے جائیں اور فال گیری کرو۔ یہ سب حدود شکنی ہے (المائدہ – 3)۔
یہ تم سے پوچھتے ہیں کہ ان کے لئے کیا حلال ہے۔ کہہ دو کہ تمہارے لئے خوشگوار چیزیں حلال ہیں۔ اور جن شکاری جانوروں کو تم نے سدھا رکھا ہے اس علم کی بنیاد پر جو اللہ نے تمہیں دیا۔ پس جس شکار کو وہ پکڑ کر لائے اسے کھا لو اور اس پر اللہ کا نام لو (المائدہ – 4)۔
تمہارے لئے چوپائے حلال کر دیئے گئے بجز ان کے جو تم کو پڑھ کر سنا دیئے (الحج – 30)۔
No comments:
Post a Comment