وصیت کا تصور قرآن کریم کی روشنی میں
تعریف
وصِیَّت:بطورِاحسان کسی کو اپنے مرنے کے بعد اپنے مال یا منفعت کا مالک بنادینا۔
لغوی معنی
وصیت لغت میں ہر اس چیز کو کہا جاتا ہے جس کے کرنے کا حکم دیا جائے خواہ زندگی میں یا مرنے کے بعد، لیکن عرف میں اس کام کو کہا جاتا ہے کہ مرنے کے بعد جس کے کرنے کا حکم ہو۔
قرآن کریم میں بھی وصیت کا حکم صرف جائداد اور مال کی تقسیم کے لیے وضع کیا گیا ہے۔
آیات مندرج ذیل ہیں
سورہ البقرہ
كُتِبَ عَلَيۡكُمۡ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ ٱلۡمَوۡتُ إِن تَرَكَ خَيۡرًا ٱلۡوَصِيَّةُ لِلۡوَٲلِدَيۡنِ وَٱلۡأَقۡرَبِينَ بِٱلۡمَعۡرُوفِ ۖ حَقًّا عَلَى ٱلۡمُتَّقِينَ ۔180
فَمَنۢ بَدَّلَهُ ۥ بَعۡدَمَا سَمِعَهُ ۥ فَإِنَّمَآ إِثۡمُهُ ۥ عَلَى ٱلَّذِينَ يُبَدِّلُونَهُ ۥۤ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ۔181
فَمَنۡ خَافَ مِن مُّوصٍ جَنَفًا أَوۡ إِثۡمًا فَأَصۡلَحَ بَيۡنَہُمۡ فَلَآ إِثۡمَ عَلَيۡهِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ۔ 182
ترجمہ۔
تم پر فرض کیا جاتا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت کا وقت آجائے تو اگر وہ کچھ مال چھوڑ جانے والا ہو تو ماں با پ اور رشتہ داروں کے لئے دستور کے مطابق وصیت کرجائے (خدا سے) ڈر نے والوں پر یہ ایک حق ہے۔
جو شخص وصیت کو سننے کے بعد بدل ڈالے تو اس (کے بدلنے) کا گناہ انہیں لوگوں پر ہے جو اس کو بدلیں۔ اور بےشک خدا سنتا جانتا ہے۔
اگر کسی کو وصیت کرنے والے کی طرف سے (کسی وارث کی) طرفداری یا حق تلفی کا اندیشہ ہو تو اگر وہ (وصیت کو بدل کر) وارثوں میں صلح کرادے تو اس پر کچھ گناہ نہیں۔ بےشک خدا بخشنے والا (اور) رحم والا ہے۔
سورہ المائدہ
يَـٰٓأَيُّہَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ شَہَـٰدَةُ بَيۡنِكُمۡ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ ٱلۡمَوۡتُ حِينَ ٱلۡوَصِيَّةِ ٱثۡنَانِ ذَوَا عَدۡلٍ مِّنكُمۡ أَوۡ ءَاخَرَانِ مِنۡ غَيۡرِكُمۡ إِنۡ أَنتُمۡ ضَرَبۡتُمۡ فِى ٱلۡأَرۡضِ فَأَصَـٰبَتۡكُم مُّصِيبَةُ ٱلۡمَوۡتِ ۚ تَحۡبِسُونَهُمَا مِنۢ بَعۡدِ ٱلصَّلَوٰةِ فَيُقۡسِمَانِ بِٱللَّهِ إِنِ ٱرۡتَبۡتُمۡ لَا نَشۡتَرِى بِهِۦ ثَمَنًا وَلَوۡ كَانَ ذَا قُرۡبَىٰ ۙ وَلَا نَكۡتُمُ شَہَـٰدَةَ ٱللَّهِ إِنَّآ إِذًا لَّمِنَ ٱلۡأَثِمِينَ ۔106
فَإِنۡ عُثِرَ عَلَىٰٓ أَنَّهُمَا ٱسۡتَحَقَّآ إِثۡمًا فَـَٔاخَرَانِ يَقُومَانِ مَقَامَهُمَا مِنَ ٱلَّذِينَ ٱسۡتَحَقَّ عَلَيۡہِمُ ٱلۡأَوۡلَيَـٰنِ فَيُقۡسِمَانِ بِٱللَّهِ لَشَہَـٰدَتُنَآ أَحَقُّ مِن شَہَـٰدَتِهِمَا وَمَا ٱعۡتَدَيۡنَآ إِنَّآ إِذًا لَّمِنَ ٱلظَّـٰلِمِينَ ۔107
ذَٲلِكَ أَدۡنَىٰٓ أَن يَأۡتُواْ بِٱلشَّہَـٰدَةِ عَلَىٰ وَجۡهِهَآ أَوۡ يَخَافُوٓاْ أَن تُرَدَّ أَيۡمَـٰنُۢ بَعۡدَ أَيۡمَـٰنِہِمۡ ۗ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَٱسۡمَعُواْ ۗ وَٱللَّهُ لَا يَہۡدِى ٱلۡقَوۡمَ ٱلۡفَـٰسِقِينَ ۔108
ترجمہ
مومنو! جب تم میں سے کسی کی موت آموجود ہو تو شہادت (کا نصاب) یہ ہے کہ وصیت کے وقت تم (مسلمانوں) میں سے دو عادل (یعنی صاحب اعتبار) گواہ ہوں یا اگر (مسلمان نہ ملیں اور) تم سفر کر رہے ہو اور (اس وقت) تم پر موت کی مصیبت واقع ہو تو کسی دوسرے مذہب کے دو (شخصوں کو) گواہ (کر لو) اگر تم کو ان گواہوں کی نسبت کچھ شک ہو تو ان کو (عصر کی) نماز کے بعد کھڑا کرو اور دونوں خدا کی قسمیں کھائیں کہ ہم شہادت کا کچھ عوض نہیں لیں گے گو ہمارا رشتہ دار ہی ہو اور نہ ہم الله کی شہادت کو چھپائیں گے اگر ایسا کریں گے تو گنہگار ہوں گے۔
پھر اگر معلوم ہو جائے کہ ان دونوں نے (جھوٹ بول کر) گناہ حاصل کیا ہے تو جن لوگوں کا انہوں نے حق مارنا چاہا تھا ان میں سے ان کی جگہ اور دو گواہ کھڑے ہوں جو (میت سے) قرابت قریبہ رکھتے ہوں پھر وہ خدا کی قسمیں کھائیں کہ ہماری شہادت ان کی شہادت سے بہت اچھی ہے اور ہم نے کوئی زیادتی نہیں کی ایسا کیا ہو تو ہم بےانصاف ہیں۔
اس طریق سے بہت قریب ہے کہ یہ لوگ صحیح صحیح شہادت دیں یا اس بات سے خوف کریں کہ (ہماری) قسمیں ان کی قسموں کے بعد رد کر دی جائیں گی اور خدا سے ڈرو اور اس کے حکموں کو (گوشِ ہوش سے) سنو اور خدا نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
سورہ النساء
يُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِىٓ أَوۡلَـٰدِڪُمۡ ۖ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ ٱلۡأُنثَيَيۡنِ ۚ فَإِن كُنَّ نِسَآءً فَوۡقَ ٱثۡنَتَيۡنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ ۖ وَإِن كَانَتۡ وَٲحِدَةً فَلَهَا ٱلنِّصۡفُ ۚ وَلِأَبَوَيۡهِ لِكُلِّ وَٲحِدٍ مِّنۡہُمَا ٱلسُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِن كَانَ لَهُ ۥ وَلَدٌ ۚ فَإِن لَّمۡ يَكُن لَّهُ ۥ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ ۥۤ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ ٱلثُّلُثُ ۚ فَإِن كَانَ لَهُ ۥۤ إِخۡوَةٌ فَلِأُمِّهِ ٱلسُّدُسُ ۚ مِنۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٍ يُوصِى بِہَآ أَوۡ دَيۡنٍ ۗ ءَابَآؤُكُمۡ وَأَبۡنَآؤُكُمۡ لَا تَدۡرُونَ أَيُّهُمۡ أَقۡرَبُ لَكُمۡ نَفۡعًا ۚ فَرِيضَةً مِّنَ ٱللَّهِ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا ۔11
۞ وَلَڪُمۡ نِصۡفُ مَا تَرَكَ أَزۡوَٲجُڪُمۡ إِن لَّمۡ يَكُن لَّهُنَّ وَلَدٌ ۚ فَإِن ڪَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَڪُمُ ٱلرُّبُعُ مِمَّا تَرَڪۡنَ ۚ مِنۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَآ أَوۡ دَيۡنٍ ۚ وَلَهُنَّ ٱلرُّبُعُ مِمَّا تَرَكۡتُمۡ إِن لَّمۡ يَڪُن لَّكُمۡ وَلَدٌ ۚ فَإِن ڪَانَ لَڪُمۡ وَلَدٌ فَلَهُنَّ ٱلثُّمُنُ مِمَّا تَرَڪۡتُم ۚ مِّنۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَآ أَوۡ دَيۡنٍ ۗ وَإِن كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ ڪَلَـٰلَةً أَوِ ٱمۡرَأَةٌ وَلَهُ ۥۤ أَخٌ أَوۡ أُخۡتٌ فَلِكُلِّ وَٲحِدٍ مِّنۡهُمَا ٱلسُّدُسُ ۚ فَإِن ڪَانُوٓاْ أَڪۡثَرَ مِن ذَٲلِكَ فَهُمۡ شُرَڪَآءُ فِى ٱلثُّلُثِ ۚ مِنۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٍ يُوصَىٰ بِہَآ أَوۡ دَيۡنٍ غَيۡرَ مُضَآرٍّ ۚ وَصِيَّةً مِّنَ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَلِيمٌ ۔12
ترجمہ
خدا تمہاری اولاد کے بارے میں تم کو ارشاد فرماتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے حصے کے برابر ہے۔ اور اگر اولاد میت صرف لڑکیاں ہی ہوں (یعنی دو یا) دو سے زیادہ تو کل ترکے میں ان کادو تہائی۔ اور اگر صرف ایک لڑکی ہو تو اس کا حصہ نصف۔ اور میت کے ماں باپ کا یعنی دونوں میں سے ہر ایک کا ترکے میں چھٹا حصہ بشرطیکہ میت کے اولاد ہو۔ اور اگر اولاد نہ ہو اور صرف ماں باپ ہی اس کے وارث ہوں تو ایک تہائی ماں کا حصہ۔ اور اگر میت کے بھائی بھی ہوں تو ماں کا چھٹا حصہ۔ (اور یہ تقسیم ترکہ میت کی) وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو اس نے کی ہو یا قرض کے (ادا ہونے کے بعد جو اس کے ذمے ہو عمل میں آئے گی) تم کو معلوم نہیں کہ تمہارے باپ دادؤں اور بیٹوں پوتوں میں سے فائدے کے لحاظ سے کون تم سے زیادہ قریب ہے، یہ حصے خدا کے مقرر کئے ہوئے ہیں اور خدا سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔
اور جو مال تمہاری عورتیں چھوڑ مریں۔ اگر ان کے اولاد نہ ہو تو اس میں نصف حصہ تمہارا۔ اور اگر اولاد ہو تو ترکے میں تمہارا حصہ چوتھائی۔ (لیکن یہ تقسیم) وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو انہوں نے کی ہو یا قرض کے (ادا ہونے کے بعد جو ان کے ذمے ہو، کی جائے گی) اور جو مال تم (مرد) چھوڑ مرو۔ اگر تمہارے اولاد نہ ہو تو تمہاری عورتوں کا اس میں چوتھا حصہ۔ اور اگر اولاد ہو تو ان کا آٹھواں حصہ (یہ حصے) تمہاری وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو تم نے کی ہو اور (ادائے) قرض کے (بعد تقسیم کئے جائیں گے) اور اگر ایسے مرد یا عورت کی میراث ہو جس کے نہ باپ ہو نہ بیٹا مگر اس کے بھائی بہن ہو تو ان میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ اور اگر ایک سے زیادہ ہوں تو سب ایک تہائی میں شریک ہوں گے (یہ حصے بھی ادائے وصیت و قرض بشرطیکہ ان سے میت نے کسی کا نقصان نہ کیا ہو (تقسیم کئے جائیں گے) یہ خدا کا فرمان ہے۔ اور خدا نہایت علم والا (اور) نہایت حلم والا ہے۔
Sunday, 23 September 2018
وصیت کا تصور قرآن کریم کی روشنی میں
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
ترجمہ
قرآن مجید عربی میں نازل ہوا ہے اور اپنے اثر و رسوخ کے ساتھ قائم دائم ہے اور قیامت تک رہے گا۔ ہم قرآن مجید کا ترجمہ تو کر سکتے ہیں مگر اس تر...
-
وَٱتَّقُواْ يَوۡمًا لَّا تَجۡزِى نَفۡسٌ عَن نَّفۡسٍ شَيْئًا وَلَا يُقۡبَلُ مِنۡہَا شَفَـٰعَةٌ وَلَا يُؤۡخَذُ مِنۡہَا عَدۡلٌ وَلَا هُمۡ يُنصَ...
-
ج ٱلزَّانِيَةُ وَٱلزَّانِى فَٱجۡلِدُواْ كُلَّ وَٲحِدٍ مِّنۡہُمَا مِاْئَةَ جَلۡدَةٍ ۖ وَلَا تَأۡخُذۡكُم بِہِمَا رَأۡفَةٌ فِى دِينِ ٱل...
-
کیوں زیاں کار بنوں خُود فراموش رہُوں؟ فکرِ فردا نہ کروں ، محوِ غمِ دوش رہوں نالے بلبل کے سنوں ، اور ہمہ تن گوش رہوں ہمنوا ! میں بھی کوئی گُل...
No comments:
Post a Comment