اِسم کی قسمیں: عربی قواعد کے لحاظ سے اِسم کی دو بڑی قسمیں ہیں:۱۔اِسمِ معرفہ۲۔ اِسمِ نکِرہ
۱۔اِسمِ معرفہ: اِسمِ معرفہ خاص چیزوں کے لیے بولا جاتا ہے
۲۔اِسمِ نکِرہ: اِسمِ نکرہ عام چیزوں کے لیے اِستعمال ہوتا ہے
اِسمِ معرفہ اور اِسمِ نکرہ کی خصوصیت:
اِسمِ نکرہ کی نشانی تنوین ہوتی ہے۔یعنی دوپیش( ٌ ) دو زبر( ً ) یا دو زیر ( ٍ )کوئی اِسمِ نکرہ اپنی اصلی حالت میں تنوین کے بغیر نہیں ہوتا۔
اَلْ تعریف یا لَامِتعریف:اگر کسی اِسمِ نکرہ کے شروع میں اَلْ لگا دِیا جائے تو وہ اِسم معرفہ بن جاتا ہے۔اور اُس سے کوئی خاص شخص یا کوئی خاص چیز یا خاص جگہ ہی سمجھی جاتی ہے۔اِس صورت میں تنوین گر جاتی ہے اور اِسم کا اعراب صرف ایک پیش ( ُ )،ایک زبر( َ) یا ایک زیر( ِ ) رہ جاتا ہے۔جیسے:
کِتَابٌ ۔۔۔(کوئی کتاب)۔۔۔اَلْکِتَابُ (خاص کتاب، مثلاً :قرآن مجید)
مَدِیْنَۃٌ ۔۔۔(کوئی شہر)۔۔۔اَلْمَدِیْنَۃُ (خاص شہر، مثلاً :مدینہ منورہ)
اَرْضٌ ۔۔۔(زمین کا حصہ)۔۔۔ اَلْاَرْضُ (کرّۂ زمین، یا زمین کا کوئی خاص علاقہ )
ایسے اَلْ سے چونکہ اسمِ نکرہ میں معرفہ کے معنیٰ پیدا ہوتے ہیں اِس لیےاِسے قواعد میں اَلْ تعریف یا لَامِتعریف (معرفہ بنانے والا) کہتے ہیں۔جسے اَلْ لگا کر معرفہ بنایا گیا ہو ایسے اِسمِ معرفہ پر تنوین نہیں آتی۔البتہ بعض الفاظ اس قاعدے سے مستثنیٰ ہیں۔جیسے اَلرُّوْمُ، اَلشَّامُ،مُحَمَّدٌ، زَیْدٌ وغیرہ۔ یہ اہلِ زبان کے اِستعمال پر موقوف ہے۔اِس کے لیے کوئی ضابطہ نہیں ہے۔
No comments:
Post a Comment