ہمیشہ اپنا معیار اس کتاب کو بنایا جائے جس میں کوئی شک و شباہت کوئی کجی کوئی کمی کوتاہی کی گنجائش موجود نہ ہو ۔
جھوٹ کو جھوٹ ثابت کرنے کے لیے جھوٹ کا سہارا لینا کہاں کی عقلمندی ہو گی۔
انسان کے معیار کا یہاں سے ہی پتا چلتا ہے کہ اس نے اپنی دین و دنیا کے مسائل حل کرنے کے لیے اپنا معیار کیا چنا ہے۔
کیا آپ اس تالاب سے پانی پینا پسند کریں گے جو ایک صاف شفاف چشمہ سے نکلتا ہے اور پہاڑوں دریاوں اور نہروں سے بہتا ہوا گزرتا ہے اور اس تالاب میں جمع ہوتا ہے جس میں متعدد قسم کی غلاظت پائی جاتی ہو۔
ہرگز نہیں
تو دوستوں آج سے اپنا معیار اس کتاب کو بنائیں جس میں
کوئی شک نہیں
جس میں کوئی گنجائش نہیں
جس میں کوئی جھوٹ نہیں
جس میں کوئی ملاوٹ نہیں
جو خالصتان اللَّهِ رب العالمین کا کلام ہے اور نبی کریم ﷺ کی زبان مبارک سے ادا ہوا، سب سے بڑی بات اس کی ذمہ داری اللہ رب العزت نے قیامت تک کے لیے اپنے ذمہ لے رکھی ہے
Thursday, 12 March 2020
معیار
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
ترجمہ
قرآن مجید عربی میں نازل ہوا ہے اور اپنے اثر و رسوخ کے ساتھ قائم دائم ہے اور قیامت تک رہے گا۔ ہم قرآن مجید کا ترجمہ تو کر سکتے ہیں مگر اس تر...
-
وَٱتَّقُواْ يَوۡمًا لَّا تَجۡزِى نَفۡسٌ عَن نَّفۡسٍ شَيْئًا وَلَا يُقۡبَلُ مِنۡہَا شَفَـٰعَةٌ وَلَا يُؤۡخَذُ مِنۡہَا عَدۡلٌ وَلَا هُمۡ يُنصَ...
-
ج ٱلزَّانِيَةُ وَٱلزَّانِى فَٱجۡلِدُواْ كُلَّ وَٲحِدٍ مِّنۡہُمَا مِاْئَةَ جَلۡدَةٍ ۖ وَلَا تَأۡخُذۡكُم بِہِمَا رَأۡفَةٌ فِى دِينِ ٱل...
-
کیوں زیاں کار بنوں خُود فراموش رہُوں؟ فکرِ فردا نہ کروں ، محوِ غمِ دوش رہوں نالے بلبل کے سنوں ، اور ہمہ تن گوش رہوں ہمنوا ! میں بھی کوئی گُل...
No comments:
Post a Comment