حقیقت خرافات میں کھو گئی
یہ امت روایات میں گھو گئی
صاحبو حقیقت کی دنیا میں کربلا کا کوئی وجود نہیں یہ سب ایرانی مجوسی جنہیں پارسی کیا جاتا کا پھیلایا ہوا جھوٹ ہے جسے ہم تیسری صدی ہجری سے سینے سے لگائے ہیں.حقیقت میں اگر ہم غیر جانبداری سے کام لیتے ہوئے عجم کے گھڑے ہوئے ان مذہبی افسانوں پر تھوڑی سی عقل و شعور استعمال کر تے ہوئے تحقیق کریں تو اس واقعے کی حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے پاکستان کے ایک سابق سفیر محمود احمد عباسی نے اس واقعے پر بہت زبردست تحقیق کی اور مکہ سے کربلا تک اونٹ اور گھوڑے کرائے پر لئے اور کربلا کی جانب سفر شروع کیا یقین جانئے وہ یہ ثابت کر نے میں کامیاب ہو گیا کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی بندہ 61 ہجری میں 9 ذوالج کو نکل کر 10 محرم تک کربلا پہنچ سکے
اندلس موجودہ سپین سے جب مسلمانوں کو دیس نکالا ملا تو آخری بچ جانے والے شہزادے کی ڈائری سے یہ پتہ چلتا ہے کہ 61 ہجری میں عرب میں ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا
بنیادی طور پر فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے دور میں ایران کی فتح کے بعد ایرانی مجوسیوں کو عربوں سے خار ہو گئی تھی کیونکہ عرب کے بدو ایرانی کسری پر غالب آگئے تھے لہذا ایران کی شکست کا بدلا لینے کے لئے ہی ابو لو فیروز مجوسی کے ہاتھوں عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کو شہید کروایا گیا اور یہ سلسلہ تیسرے اور چوتھے امیر المومنین جناب حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ اور جناب حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شہادت تک جاری رہا اور عرب کے سیدھے سادے مسلمان ایرانی مجوسی سازشوں کا شکار ہوگئے
جب قرآن میں اللہ تعالٰی نے فرما دیا کہ محمد صلعم اور ان کے رفقاء کار آپس میں نرم دل اور دشمنوں کے مقابلے میں فولاد ہیں جس کی طرف اقبال نے بھی اشارہ دیا کہ
ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم حق و باطل کو تو فولاد کے مومن
جن نفوس کی تربیت آپ صلعم نے فرمائی ہو کیا یہ ممکن ہے کہ وہ اقتدار کے لئے آپس میں لڑیں
پھر جب قرآن نے کسی اہل بیت یا آل محمد کا ذکرہی نہیں تو یہ سب کیا جب کہہ دیا کی محمد صلعم تم مردوں میں سے کسی کے بھی نہیں تو پھر آل رسول کی بات کہاں سے؟
دراصل یہ سب شیعہ مذہب کے بانی ابن سبا کی ذہنی اختراع ہے جس نے امامت اور وصی کا نظریہ گھڑا اور دور ملوکیت میں باقاعدە یہ واقعہ لکھوا کر ماتم کا آغاز کوا جبکہ حقیقت میں حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کو 10 محرم 61 ہجری میں بطور گورنر دمشق رات کے اندھیرے میں گورنر ہاوس میں گھس کر انکی ایرانی مجوسیوں نے شہید کیا جن کے ہاتھ تین امیر المومنین اور حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ کے خون سے رنگے ہیں
اللہ کے بندوں لاریب قرآن بار بار دعوت فکر دیتا ہے ان عجم کے لکھے ہوئے افسانو پر تھوڑی سی تحقیق کر لیا کرو
[23/09, 10:33 AM] Muhammad Aadil: مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ ٱللَّهِ ۚ وَٱلَّذِينَ مَعَهُ ۥۤ أَشِدَّآءُ عَلَى ٱلۡكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيۡنَہُمۡ ۖ تَرَٮٰهُمۡ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبۡتَغُونَ فَضۡلاً مِّنَ ٱللَّهِ وَرِضۡوَٲنًا ۖ سِيمَاهُمۡ فِى وُجُوهِهِم مِّنۡ أَثَرِ ٱلسُّجُودِ ۚ ذَٲلِكَ مَثَلُهُمۡ فِى ٱلتَّوۡرَٮٰةِ ۚ وَمَثَلُهُمۡ فِى ٱلۡإِنجِيلِ كَزَرۡعٍ أَخۡرَجَ شَطۡـَٔهُ ۥ فَـَٔازَرَهُ ۥ فَٱسۡتَغۡلَظَ فَٱسۡتَوَىٰ عَلَىٰ سُوقِهِۦ يُعۡجِبُ ٱلزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِہِمُ ٱلۡكُفَّارَ ۗ وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ مِنۡہُم مَّغۡفِرَةً وَأَجۡرًا عَظِيمَۢا
محمدﷺ خدا کے پیغمبر ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں کے حق میں سخت ہیں اور آپس میں رحم دل، (اے دیکھنے والے) تو ان کو دیکھتا ہے کہ (خدا کے آگے) جھکے ہوئے سر بسجود ہیں اور خدا کا فضل اور اس کی خوشنودی طلب کر رہے ہیں۔ (کثرت) سجود کے اثر سے ان کی پیشانیوں پر نشان پڑے ہوئے ہیں۔ ان کے یہی اوصاف تورات میں (مرقوم) ہیں۔ اور یہی اوصاف انجیل میں ہیں۔ (وہ) گویا ایک کھیتی ہیں جس نے (پہلے زمین سے) اپنی سوئی نکالی پھر اس کو مضبوط کیا پھر موٹی ہوئی اور پھر اپنی نال پر سیدھی کھڑی ہوگئی اور لگی کھیتی والوں کو خوش کرنے تاکہ کافروں کا جی جلائے۔ جو لوگ ان میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان سے خدا نے گناہوں کی بخشش اور اجر عظیم کا وعدہ کیا ہے
: نبی کریم کی صحبت میں رہنے والے کیا آپس میں قتال کریں گے؟
یہ لوگ تو آپس میں رحم دل تھے
اللہ پاک اس آیت میں ان تمام جھوٹی منگھڑت کہانیوں کی نفی کرتا ہے جو ہمارے نبی کریم اور انکے اصحاب پر تھوپی جاتی ہیں
No comments:
Post a Comment