Wednesday, 8 January 2020

عیسی علیہ اسلام کی وفات کے دلائل

سورہ النساء 157،158 اور 159
   وَّقَوۡلِهِمۡ اِنَّا قَتَلۡنَا الۡمَسِيۡحَ عِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ رَسُوۡلَ اللّٰهِ‌ ۚ وَمَا قَتَلُوۡهُ وَمَا صَلَبُوۡهُ وَلٰـكِنۡ شُبِّهَ لَهُمۡ‌ ؕ وَاِنَّ الَّذِيۡنَ اخۡتَلَـفُوۡا فِيۡهِ لَفِىۡ شَكٍّ مِّنۡهُ‌ ؕ مَا لَهُمۡ بِهٖ مِنۡ عِلۡمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ‌ ۚ وَمَا قَتَلُوۡهُ يَقِيۡنًا ۢ ۙ‏

اور اِن کے اِس دعوے کی وجہ سے کہ ہم نے مسیح عیسیٰ ابن مریم کو قتل کردیا ہے ـــــ دراں حالیکہ اِنھوں نے نہ اُس کو قتل کیا اور نہ اُسے صلیب دی،بلکہ معاملہ اِن کے لیے مشتبہ بنا دیا گیا۔  اِس میں جو لوگ اختلاف کر رہے ہیں، وہ اِس معاملے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں، اُن کو اِس کے متعلق کوئی علم نہیں، وہ صرف گمانوں کے پیچھے چل رہے ہیں۔ اِنھوں نے ہرگز اُس کو قتل نہیں کیا۔

بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيۡهِ‌ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَزِيۡزًا حَكِيۡمًا‏

بلکہ اللہ ہی نے اپنی طرف اٹھا لیا تھا اور اللہ زبردست ہے، وہ بڑی حکمت والا۔

وَ اِنۡ مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤۡمِنَنَّ بِہٖ قَبۡلَ مَوۡتِہٖ ۚ وَ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ  یَکُوۡنُ عَلَیۡہِمۡ  شَہِیۡدًا
اِن اہل کتاب میں سے ہر ایک اپنی موت سے پہلے لازماً اِس پر یقین کر لے گا اور قیامت کے دن یہ اِن پر گواہی دے گا۔
........................................................
سورہ المائدہ 116 اور 117
وَاِذۡ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوۡنِىۡ وَاُمِّىَ اِلٰهَيۡنِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ‌ؕ قَالَ سُبۡحٰنَكَ مَا يَكُوۡنُ لِىۡۤ اَنۡ اَقُوۡلَ مَا لَـيۡسَ لِىۡ بِحَقٍّ‌ؕؔ اِنۡ كُنۡتُ قُلۡتُهٗ فَقَدۡ عَلِمۡتَهٗ‌ؕ تَعۡلَمُ مَا فِىۡ نَفۡسِىۡ وَلَاۤ اَعۡلَمُ مَا فِىۡ نَفۡسِكَ‌ؕ اِنَّكَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ‏

اللہ پوچھے گا: اے مریم کے بیٹے عیسیٰ، کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ خدا کے سوا تم مجھے اور میری ماں کو معبود بنالو۔ وہ عرض کرے گا: سبحان اللہ، یہ کس طرح روا تھا کہ میں وہ بات کہوں جس کا مجھے کوئی حق نہیں ہے۔ اگر میں نے یہ بات کہی ہوتی تو آپ کے علم میں ہوتی، (اِس لیے کہ) آپ جانتے ہیں جو کچھ میرے دل میں ہے اور آپ کے دل کی باتیں میں نہیں جانتا۔ تمام چھپی ہوئی باتوں کے جاننے والے تو آپ ہی ہیں۔

مَا قُلۡتُ لَهُمۡ اِلَّا مَاۤ اَمَرۡتَنِىۡ بِهٖۤ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ رَبِّىۡ وَرَبَّكُمۡ‌ۚ وَكُنۡتُ عَلَيۡهِمۡ شَهِيۡدًا مَّا دُمۡتُ فِيۡهِمۡ‌ۚ فَلَمَّا تَوَفَّيۡتَنِىۡ كُنۡتَ اَنۡتَ الرَّقِيۡبَ عَلَيۡهِمۡ‌ؕ وَاَنۡتَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ شَهِيۡدٌ‏

میں نے تو اُن سے وہی بات کہی تھی جس کا آپ نے مجھے حکم دیا تھا کہ اللہ کی بندگی کرو جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمھارا بھی۔ میں اُن پر نگران رہا، جب تک میں اُن کے درمیان تھا۔ پھر جب آپ نے مجھے وفات دی تو اُس کے بعد آپ ہی اُن کے نگران رہے ہیں اور آپ ہر چیز پر گواہ ہیں۔
....................................................
سورہ ال عمران 55
اِذۡ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيۡسٰۤى اِنِّىۡ مُتَوَفِّيۡكَ وَرَافِعُكَ اِلَىَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَجَاعِلُ الَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡكَ فَوۡقَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ ‌‌ۚ ثُمَّ اِلَىَّ مَرۡجِعُكُمۡ فَاَحۡكُمُ بَيۡنَكُمۡ فِيۡمَا كُنۡتُمۡ فِيۡهِ تَخۡتَلِفُوۡنَ‏

اس وقت، جب اللہ نے کہا: اے عیسیٰ ، میں نے فیصلہ کیا ہے کہ تجھے وفات دوں گااور اپنی طرف اٹھا لوں گا اور تیرے اِن منکروں سے تجھے پاک کروں گا اورتیری پیروی کرنے والوں کو قیامت کے دن تک اِن منکروں پر غالب رکھوں گا۔ پھر تم سب کو بالآخر میرے پاس آنا ہے تو اُس وقت میں تمھارے درمیان اُن چیزوں کا فیصلہ کردوں گا جن میں تم اختلاف کرتے رہے ہو
..................................................
قیامت کی نشانیاں
سورہ الزخرف 61
وَاِنَّهٗ لَعِلۡمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمۡتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُوۡنِ‌ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ
اور بیشک عیسی ٰ قیامت کی نشانی ہے تو ہرگز قیامت میں شک نہ کرنا اور میرے پیرو ہونا یہ سیدھی راہ ہے،
سورہ محمد 18
فَهَلۡ يَنۡظُرُوۡنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنۡ تَاۡتِيَهُمۡ بَغۡتَةً ‌ ۚ فَقَدۡ جَآءَ اَشۡرَاطُهَا‌‌ ۚ فَاَنّٰى لَهُمۡ اِذَا جَآءَتۡهُمۡ ذِكۡرٰٮهُمۡ‏

تو کاہے کے انتظار میں ہیں مگر قیامت کے کہ ان پر اچانک آجائے، کہ اس کی علامتیں تو آہی چکی ہیں پھر جب آجائے گی تو کہاں وہ اور کہاں ان کا سمجھنا
.............................................

سورہ المومنون 50
وَجَعَلۡنَا ابۡنَ مَرۡيَمَ وَاُمَّهٗۤ اٰيَةً وَّاٰوَيۡنٰهُمَاۤ اِلٰى رَبۡوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّمَعِيۡنٍ

اور مریم کے بیٹے اور اُس کی ماں کو بھی ہم نے اِسی طرح ایک عظیم نشانی بنایا اور دونوں کو ایک ٹیلے پر پناہ دی جو اطمینان کی جگہ تھی اور وہاں ایک چشمہ جاری تھا۔
...................................................
سورہ مریم 56
ادریس علیہ السلام کو بھی اللَّهِ نے اٹھا لیا تھا قرآن میں ہے
وَاذۡكُرۡ فِى الۡكِتٰبِ اِدۡرِيۡسَ‌ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّيۡقًا نَّبِيًّا ۙ ‏
اور اس کتاب میں ادریس (علیہ السلام) کا بھی ذکر کر، وه بھی نیک کردار پیغمبر تھا

وَّرَفَعۡنٰهُ مَكَانًا عَلِيًّا‏
ہم نےاسے بلند مقام پر اٹھا لیا

No comments:

Post a Comment

ترجمہ

قرآن مجید عربی میں نازل ہوا ہے اور اپنے اثر و رسوخ کے ساتھ قائم دائم ہے اور قیامت تک رہے گا۔ ہم قرآن مجید کا ترجمہ تو کر سکتے ہیں مگر اس تر...